تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 131
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 127 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک پر دوسرے دلائل کے علاوہ اس کے زندہ مذہب ہونے اور اس میں زندہ نشانات کے جاری ہونے کی دلیل بھی پیش کی اور اس بحث میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجو د مبارک بطور مثال پیش کیا۔اس پر ڈاکٹر جگن ناتھ آمادہ ہو گئے کہ ان کو کوئی نشان دکھایا جائے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے ان کا یہ مطالبہ حضرت کی خدمت میں لکھا تو حضور نے نشان نمائی کا یہ مطالبہ منظور فرمالیا۔مگر شرط یہ عائد کی کہ " امر خارق پر کوئی ناجائز اور بے سود شرطیں نہ لگائی جائیں۔بلکہ خارق عادت صرف اس طور سے سمجھا جائے جو انسانی طاقتیں اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہوں۔مگر یہ سب اس وقت ہو گا کہ جب پہلے اجازت الہی اس بارے میں ہو جائے۔" اس پر ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ وہ صرف انسانی طاقتوں سے بالا اعجازی نشان دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ حضور نے فورا ایک رجسٹری خط بھیجا کہ اگر آپ بلا تخصیص کسی خارق عادت نشان پر سچے دل سے مسلمان ہونے کو تیار ہیں تو پنجاب گزٹ (سیالکوٹ)۔رسالہ انجمن حمایت اسلام (لاہور)۔ناظم الهند (لاہور) - اخبار عام (لاہور) - نور افشاں لدھیانہ ) - اخبارات میں حلفا اقرار شائع کرا دیں کہ میں نشان دیکھ کر مسلمان ہو جاؤں گا تو ایک سال کے اندر اندر وہ ایسا خارق عادت نشان ضرور دیکھ لیں گے۔بصورت دیگر ڈاکٹر صاحب جو سزا اور تاوان میری مقدرت کے موافق میرے لئے تجویز کریں وہ مجھے نظور ہے۔اور بخدا مجھے مغلوب ہونے کی حالت میں سزائے موت سے بھی کچھ عذر نہیں۔نگار ڈاکٹر صاحب کو جو مہینوں سے نشان طلبی کا مطالبہ کر رہے تھے اس طرز کا حلف شائع کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔اور وہ صریحا گریز اختیار کر گئے !! حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ڈاکٹر جگن ناتھ کی طرف سے جب (تاریخ ۷ / جنوری ۱۸۹۲ء) حضور کو اطلاع دی کہ وہ اب بلا تخصیص نشان دیکھنے پر رضامند ہیں تو ساتھ ہی حضور کی خدمت میں لکھا۔" عالی جناب مرزا جی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو۔اللہ کی رضامندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے تیار ہوں۔اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ تابکار (مگر محب انسان چاہتا ہے کہ اس کام میں کام آوے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خط کا یہ حصہ درج کر کے اپنے قلم سے اشتہار میں رقم فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ایثار مال و عزت اور جانفشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ ان کی روح بول رہی ہے۔" ملازمت سے استعفی کی ممانعت دعوی مسیحیت کے بعد اب حضرت مولوی صاحب کے دل میں زور سے پھر یہ خیال اٹھا کہ ریاست کی نوکری OA