تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 123 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 123

تاریخ احمدیت جلد ۳ 119 سفر در مین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ۱۸۸۷ ء میں رسالہ " شحنہ حق اور مرزا غلام احمد صاحب کے الہام " کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا۔حضرت مولوی صاحب نے جو ان کے پہلے اعتراضوں کا قلع قمع کر چکے تھے اس مضمون کا بھی دندان شکن جواب لکھا۔جو " منشور محمدی" بنگلور کی کئی قسطوں میں شائع ہوا۔اس مضمون کا عنوان تھا۔” جناب مرزا غلام احمد صاحب کے الہامات کی بابت پادری تھامس ہاول کی نکتہ چینیوں پر ایک مفصل ریمارک اور آخر میں نام کی بجائے صرف ن۔و۔جموں کے الفاظ لکھے تھے۔مضمون کا آغاز ان الفاظ سے ہو تا تھا۔" مرزا غلام احمد صاحب قادیانی جو فی زماننا مسلمانوں میں ایک عالم صوفی ہیں دین اسلام کی حقیت اور منجانب اللہ ہونے کے بے نظیر مدعی و مثبت ہیں ان کی طرف سے حال میں ایک کتاب شحنه حق شائع ہوئی ہے جس کا خاص مدعا یہ ہے کہ جہلاء پسند رسالوں کی بیہودہ اصلیت اور پر تزویر تقریروں اور علمی صورت تحریروں کی پر فساد حیثیت کو آریوں کے کم علم اور بے خبر ممبروں پر کسی قدر کھول دیا جائے تاکہ وہ ایسے لغویات کو بعض آوارہ طبع اور منہ پھٹ آریوں کا (جن کا مشیر شاید کوئی نیک طبع آریہ نہ ہو گا) عین کمال سمجھ کر بہتیروں کی طرح ان کی تقلیدی گڑھے میں نہ کو دیں۔" اس کے بعد ایک جگہ لکھا " سبھی مسلمان اولیاء اللہ کے الہامات کے قائل ہیں جبکہ ان کے نزدیک نیک بندوں کا ہر صدی میں صاحب الہام ہو ناممکن اور مسلم ہے تو ان کو اس بارے میں مرزا صاحب کی مخالفت کرنے سے پہلے اپنے مسلم اعتقادوں اور مسائل صحیحہ دینیہ کی تردید بھی کرنی پڑتی ہے اور کوئی عاقل شخص اور حق پسند ان میں سے بدوں کامل تحقیق کے اس مخالفت کا مرتکب نہیں ہو G-C پادری صاحب نے کور نے اعتراض کیا تھا کہ جب شرکاء کے بارے میں خدا نے دعا قبول نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا تو لمبے چوڑے مقدمات مرزا غلام قادر صاحب و مرزا غلام مرتضی صاحب نے کیوں کئے۔اس کے جواب میں آپ نے بالوضاحت لکھا کہ یہ مقدمات مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مرزا غلام قادر صاحب نے دائر کئے اور آپ نے مرزا غلام قادر صاحب تک یہ الہام پہنچا بھی دیا مگر انہوں نے صرف یہ کہا کہ اگر ہمیں پہلے خبر ہوتی تو ہم مقدمہ نہ کرتے۔اور اس قدر خرچ کرنے سے دست کش رہتے اب چھوڑنا مشکل ہے آخر وہ ہائیکورٹ تک پہنچے اور ہار گئے۔آپ نے جب مضمون کی سب قسطیں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ارسال فرما ئیں تو حضور نے ۲۳/ جنوری ۱۸۸۸ء کو اس پر اپنے ایک خط میں کمال خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا۔منشور محمدی میں جو آنمخدوم نے مضمون چھپوایا ہے وہ سب پر چے پہنچ گئے وہ مضمون نہایت ہی عمدہ