تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 122
تاریخ احمدیت جلد ۳ 118 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک نے دوسرا بڑا اہم کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ ۱۸۸۶ء میں انہوں نے آل انڈیا محمدن ایجو کیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی جس نے ہندوستان کے مختلف صوبوں اور ضلعوں میں پھیلے ہوئے چھ کروڑ مسلمانوں میں ایک حرکت کی پیدا کر دی اور مسلمانوں میں عام تعلیمی بیداری پیدا کرنے میں " ایجو کیشنل کانفرنس " کالج سے بھی زیادہ مفید ثابت ہوئی۔کانفرنس کے اجلاس میں علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷ - ۱۹۱۴ء) مولانا حالی (۱۸۳۷ - ۱۹۱۴ء) نواب محسن الملک (۱۸۳۷ - ۱۹۰۷ء) وغیرہ اکابر لیکچر دیتے اور بیداری کے نئے آثار نمودار ہو جاتے۔- حضرت مولوی نور الدین صاحب کو چونکہ مسلمانان ہند کی دینی و دنیوی ترقی سے خاص دلچسپی تھی۔اور یوں بھی سرسید مرحوم کی خدمات کے آپ دل سے معترف تھے اس لئے آپ کا نفرنس کے معاونوں میں شامل ہو گئے۔اور مقدور بھر اس کی ہمیشہ مدد کرتے رہے۔دراصل آپ ان دنوں سر سید احمد خاں مرحوم کے خیالات اور ان کے طریق استدلال کی طرف کسی قدر ما ئل ہو گئے تھے۔اس لئے بسا اوقات معجزات اور اس قسم کے روحانی تصرفات کی تاویل فرما دیا کرتے تھے۔ان کی تفسیر میں اس میلان کی جھلک احمدیت کے ابتدائی ایام میں بھی نظر آتی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں آہستہ آہستہ یہ اثر دھلتا گیا۔حتی کہ فنائیت کامل کا مقام حاصل ہو گیا۔پونچھ میں قیام کے خان بهادر) شیخ محمد عبد اللہ صاحب (علیگ) کا قبول اسلام زمانه میں فصل الخطاب" کی تصنیف کے علاوہ ایک نہایت اہم واقعہ یہ ہوا کہ یہاں موضع بھان تنی کے ایک برہمن خاندان کے نوجوان ٹھاکر داس سے پونچھ کے سکول میں آپ سے ملاقات ہوئی جس کے بعد وہ نوجوان آپ کی تحریک پر مزید تعلیم کے لئے جموں آیا اور آپ کی توجہ ، تعلیم و تلقین اور فیض صحبت سے بالا خر حلقہ بگوش اسلام ہو گیا اور بعد ازاں آپ کی خصوصی تو جہات و عنایات کی بدولت خان بہادر محمد عبد اللہ بی۔اے۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ایم ایل اے بنا اور علی گڑھ تحریک کے لئے بے حد تقویت کا موجب ہوا۔حضرت اقدس سے مراسلت حضرت مولوی صاحب کی حضور سے پہلی ملاقات کے معابعد قادیان تک برابر جاری رہا۔سے سلسلہ مراسلت جاری ہو چکا تھا۔جو آپ کے زمانہ ہجرت منشور محمدی میں ایک معرکتہ الا را مضمون پنڈ دادنخان کے پادری تھامس ہاول صاحب نے پرچہ "نور افشاں “۶ / جون