تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 124
تاریخ احمدیت جلد ۳ ہے۔جزاکم اللہ خیرا" 120 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حضرت مسیح موعود بیماری اور عیادت کے لئے حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری علیہ السلام کو حکیم فضل الدین صاحب کا جموں سے خط ملا کہ حضرت مولوی صاحب سخت بیمار ہیں جس پر حضور اپنے خادم حافظ حامد علی صاحب کو ساتھ لے کر آپ کی عیادت کے لئے جموں تشریف لائے بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جموں جاتے ہوئے آپ وزیر آباد کے محلہ شیخ لال کے قریب پیر حیدر شاہ کے مکان پر قیام فرما ر ہے۔کئی لوگ آپ کی ملاقات کے لئے بھی حاضر ہوئے جموں میں خلیفہ نورالدین صاحب جھوٹی کے کمرہ میں آپ فروکش ہوئے۔۱۲۵ یہ انداز آی / جنوری ۱۸۸۸ء کا واقعہ ہے۔آپ بخار اور سردرد کے عارضہ میں مبتلا تھے اور کمزوری بہت ہی ہو گئی تھی۔حضرت اقدس تین دن تک قیام پذیر رہے۔آپ نے پہلے سے آپ کو اطلاع دی کہ " مجھے بشارت دی گئی ہے۔کہ میرے وہاں پہنچنے کے وقت آپ کو آرام ہو گا۔اور ایسا tt ہی ہوا۔حضرت مولوی صاحب اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔حکیم فضل الدین صاحب نے میری کسی بیماری میں گھبرا کر حضرت صاحب ( مسیح موعود) کو لکھ دیا کہ بیمار ہیں۔حضرت صاحب بیتاب ہو کر میرے پاس جموں تشریف لے گئے۔قیام جموں کے دوران حضور کے دل میں بڑے زور سے دو خیال اٹھے(۱) حضرت مولوی صاحب دوسرا نکاح کرلیں۔(۲) اپنے اخراجات پر کنٹرول کر کے کچھ نہ کچھ تنخواہ میں سے پس انداز کریں۔چنانچہ قادیان واپس جاکر حضور نے ۲۲/ جنوری ۱۸۸۸ء کو حضرت مولوی صاحب کو لکھا۔”جب سے یہ خاکسار آپ کی ملاقات کر کے آیا ہے تب سے مجھے آپ کے ہموم و غموم کی نسبت دن رات خیال لگا ہوا ہے اور میرا دل بڑے یقین سے یہ فتویٰ دیتا ہے کہ اگر نکاح ثانی کا دلخواہ انتظام ہو جاوے تو یہ امر موجب برکات کثیرہ ہو گا۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اس سے تمام کسل و حزن بھی دور ہو گا اور اللہ جل شانہ اپنے فضل و کرم سے اولاد صالح صاحب عمرد برکت بھی عطا کرے گا۔۔۔دوسرے ایک یہ امر بھی قابل انتظام ہے کہ آپ کے اخراجات ایسے حد سے بڑھے ہوئے ہیں کہ جن کے سبب سے ہمیشہ آپ کو تہی دست رہنا پڑتا ہے۔یہاں تک کہ میں نے مولوی کریم بخش صاحب مراد مولوی عبد الکریم صاحب۔ناقل) کی زبانی سنا ہے کہ جو آٹھ سو روپیہ مجھ کو آپ نے بھیجا تھاوہ بھی قرضہ لیکر ہی بھیجا تھا۔دامن 21 سے لا تبسط كل البسط کی طرف خیال رکھنا چاہئے۔اور اپنے نفس سے ایک مستحکم عہد کرلیں کہ تیسرا یا چوتھا حصہ تنخواہ میں سے خرچ کریں اور باقی کسی دکان وغیرہ