تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 116
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 112 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک 110 لاله سالگ رام اپنی کتاب تواریخ کشمیر " صفحہ ۲۱۴ ۲۱۵ پر ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔امیر بن امیر عربی شاستری و انگریزی علوم کے عالم امور مملکت میں رساد دقیقہ سنج۔نہایت معمل - خلیق۔سلیم الطبع - خندہ پیشانی ، مصلحت داں ، فیاض۔جفاکش و محنتی ہیں مگر نازک بدن و ضعیف الدماغ ہیں۔مرقاة الیقین صفحہ ۲۶۱۔-100 ۱۱۲ مرقاة الیقین صفحه ۱۶۲ ۱۱۳- مرقاۃ الیقین صفحه ۱۷۰-۱۷۱۔-۱۱۴ منشور محمدی کا یہ فائل خلافت لائبریری ربوہ میں اور رسالہ انتخاب الحکمت کا ایک نسخہ قادیان کے کتب خانہ میں آج تک محفوظ ہے۔۱۱۵ مرقاة الیقین صفحه ۲۲۵۔۱۱۶- مرقاة الیقین صفحه ۱۵۵۔شیخ محمد عبد اللہ پلیڈ ر مراد ہیں۔۱۱- الحکم ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۵- 19 بدر / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۸ کالم ۳ ۱۲۰- حیات جاوید حصہ اول صفحہ ۱۰ ۱۱ از مولانا الطاف حسین حالی اس واقعہ کا سین بن معلوم نہیں ہوا۔حض سرسید کے تذکرہ کی مناسبت سے یہاں اس کا ذکر کر دیاگیا ہے۔ای یا مقام ہے یا مار لیا اما الان لا الہ اب ایم پی کے ہوگئے۔۱۳۴- جیون پر تر صفحه ۲۹۸ از پرت لیکھرام ۱۳۵ بدر ۹ / مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۷-۸- ١٣٦ جیون چر ترص ۲۶۳ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے با ہو نیلا ہر صاحب مصاحب مہاراجہ کشمیر اور دیوان انت رام کو بھی سوامی صاحب سے ملنے کے لئے بھیجا تھا اور مہاراجہ صاحب کا ارادہ ان کو جموں میں بلوانے کا تھا اور سوامی صاحب تیار بھی ہو گئے تھے۔مگر پنڈت گنیش شاستری ( حج جموں) نے کہا کہ اگر ان کو بلاتے ہیں تو پہلے مندروں کو گرادیجئے گا۔اس پر مہاراجہ یہ ارادہ ترک کر دیا گویا سوامی صاحب کے ریاست میں لانے کا ایک منصوبہ سوچا گیا تھا اور اس سے قیاس ہوتا ہے که شاید حضرت مولوی صاحب کو بھی اس کا علم ہو گیا ہو۔اور آپ کوئی موقعہ نکال کر خود ہی اس سے گفتگو کرنے کے لئے لاہور تشریف لے آئے ہوں۔۱۲۷- منشور محمد کی جلد ۱۰ نمبر ۲ صفحه ۲۲ - ۲۳- ۱۳۸ منشور محمدی جلد انمیرے صفحہ ۷۸ ۱۳۹ - ۱۸۸۱ء میں اس انجمن کی تجویز ہوئی اور مارچ ۱۸۸۲ء میں اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماموریت کے مقام پر کھڑا کر دیا۔۱۳۰ مرقاة الیقین صفحه ۱۴۶۔۔۳۱ رو داد گولڈن جوبلی انجمن حمایت اسلام صفحه ۱۵ ۱۳۲- آپ کا لیکچر اکثر انجمن کے سالانہ جلسوں پر ہوا کرتا تھا جس کا تذکرہ انجمن کی متعدد رو دادوں میں آج تک موجود ہے۔(جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے، علاوہ ازیں انجمن کے کتب خانہ میں مدت تک حضرت مولوی صاحب کی کتابیں شائع یا فروخت ہوتی رہیں۔جن کا منافع سر حال انجمن کو پہنچتا رہا۔مثلاً ایک عیسائی کے تین سوالوں کے جواب ابطال الوبيت مسیح۔فضل الحطاب تصدیق براہین احمدیہ (ملاحظہ ہو۔فارسی کی دوسری کتاب اور دینیات کا تیسرا رسالہ و صرف فاری کا ابتدائی رسالہ شائع کردہ انجمن