تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 117 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 117

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 113 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حمایت اسلام ۱۱-۱۳۰۹ھ ) اس سے ظاہر ہے کہ انجمن کو ابتداء میں تبلیغ اسلام کے ٹھوس کام کی اگر کچھ تھوڑی بہت توفیق ملی ہے تو وہ بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول کی برکت سے ملی ہے۔۱۳۳- لیکچر قرآن شریف کی دنیا کو ضرورت شائع کردہ انجمن حمایت اسلام ۱۸۹۸ء اور دوسرے رسائل میں لکھا ہے کہ انجمن حمایت اسلام کے مقاصد یہ ہیں۔اول مخالفین مذہب اسلام کے جواب تحریری و تقریری تہذیب کے ساتھ دیئے جائیں دوم مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام۔ایک آخری مقصد یہ تھا کہ گورنمنٹ انگلشیہ کی وفاداری کے نتائج حقہ سے اہل اسلام کو آگاہ کرنا۔اس آخری مقصد کی تکمیل کے لئے ایک مضمون سرکار انگلشیہ کے عہد کے برکات اور رعایا کے دلوں میں نمک حلالی کے خیالات اور بعض دوسرے مضامین شائع ہوئے۔(ملاحظہ ہو ر پورٹ انجمن حمایت اسلام اپریل ۱۹۰۳ء) ۱۳۴- حضرت مولوی صاحب کے انجمن سے ان تعلقات ہی کا نتیجہ ہے کہ باوجودیکہ جماعت احمدیہ پر ابتدا ہی سے کفر کا فتویٰ دے دیا گیا تھا مگر انجمن حمایت اسلام سے احمدیوں کے مراسم و روابط عرصہ دراز تک قائم رہے چنانچہ انجمن حمایت اسلام کی سالانہ رپورٹوں سے ظاہر ہے کہ احمدیوں نے سالہا سال تک چندہ دیا احمدی لیکچرار اور شعراء ہمیشہ اس کے سالانہ جلسوں کی رونق ہوتے تھے۔چنانچہ 1981ء کی بات ہے کہ انجمن حمایت اسلام اور جاسہ سالانہ قادیان دونوں ایک ہی تاریخوں میں منعقد ہوئے جس پر احمدی لیکچرار نہ آسکے اور جلسہ کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔چنانچہ اجلاس عام میں ہی خان بہادر اللہ بخش نے کہہ ڈالا کہ اس دفعہ اور بھی کئی قومی اور اسلامی مجالس انہی دنوں قائم تھیں ندوۃ العلماء کا جلسہ دہلی میں منعقد ہو رہا تھا اس لئے قاری شاہ سلیمان اور مولانا شبلی نعمانی دیگر علمائے کرام ادھر مصروف ہونے کے باعث اس جلسہ میں تشریف نہیں لاسکے۔احمدیوں کا جلسہ قادیان میں تھا اس لئے کچھ مسلمان ادھر مصروف رہے۔(انجمن حمایت اسلام کے پچیسویں سالانہ جلسہ کی روداد مارچ اپریل 1918ء ضمیمہ انجمن کے سالانہ جلسوں میں جن احمد بی مقررین نے (حضرت مولوی نور الدین صاحب کے علاوہ) تقریریں کیں یا نظمیں پڑھیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب (جلسه ۱۸۹۴ء ۱۸۹۵ء ۱۸۹۷ء) ان سالوں میں حضرت میر صاحب نے ایک نظم پڑھی پھولوں کی مگر طلب ہے تو پانی چمن کو دے۔جنت کی گر طلب ہے تو زرا انجمن کو دے " اس نظم پر انجمن کو بہت چندہ ہوا۔(حیات ناصر - صفحہ (۳۱) خواجہ کمال الدین صاحب (۱۸۹۴ ۶ - ۱۸۹۵ء) مولوی محمد علی صاحب (صدارت ۱۹۲۲ء) مولوی عصمت اللہ صاحب (۱۹۲۲ ۶ - ۱۹۲۵ء) شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور (۱۹۲۷ء) مولوی صدر الدین صاحب (۱۹۲۷ء) - ولوی عبد الحق صاحب دویار تھی (۱۹۲۷ء)۱۹۳۶ء میں انجمن حمایت اسلام نے بیرونی دباؤ سے متاثر ہو کر احمدیوں کے اخراج کے لئے باقاعدہ ایک ریزولیوشن پاس کیا کہ ”عقائہ نبوت وحی اور خاتمیت میں انجمن حمایت اسلام عامتہ المسلمین کی ہمنوا ہے اور یہ کو نسل اس امر کا اعلان ضروری سمجھتی ہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کا اساسی اصول ہے اور حضرت محمد مصطفی ایا ہے کے بعد کوئی نبی کسی رنگ میں نہیں آسکتا انجمن کا مسلک یہی ہے اور ایسا ہی رہے گا۔(بحوالہ ٹریکٹ انجمن حمایت اسلام لاہور کا اعلان رقم کرده جناب مولوی محمد علی صاحب مرحوم امیرانجمن اشاعت اسلام لاہور) یہ ریزولیوشن عامتہ المسلمین کو مسلم کی تعریف سے خارج کر تا تھا کیونکہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام جیسے مستقل نبی کی آمد ثانی کے منتظر تھے مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ایسا مانے والے تو انجمن حمایت اسلام کے ممبر ہی رہے مگر احمد یوں پر اس کے دروازے آج تک بند ہیں جن کا تصور صرف یہ ہے کہ دوسرے جہاں حضرت مسیح کے آسمان سے آنے کا عقیدو رکھتے ہیں وہاں ان کے نزدیک آنے والا مسیح آنحضرت ﷺ کی امت میں سے پیدا ہونے والا ہے اور آپ کے غلاموں میں سے ایک غلام اور خادموں میں سے ایک خادم ہے اور حدیث نبوی کے مطابق اس کی نبوت کے صرف یہ معنی ہیں کہ وہ خدا تعالٰی سے کثرت مکالمہ مخاطبہ کی خبر پا کر دیا میں اسلام اور محمد رسول اللہ ان کی عالمگیر حکومت قائم کر دے !ایا للعجب ۱۳۵- حیات احمر چهارم صفحه ۱۱۸ حاشیہ ۱۳۹ اس اشتہار کا ذکر تاریخ احمدیت جلد دوم (طبع دوم) میں ۱۸۸۵ء کے واقعات میں صفحہ ۶۷ پر آچکا ہے۔۱۳۷- تذکرہ رؤسائے پنجاب حصہ دوم صفحہ ۲۱ پر لکھا ہے کہ دیوان اننت رام نے ۱۸۸۵ء میں دماغی عارضہ کے باعث استعفیٰ دیدیا تھا۔اور ان کی جگہ گوبند سہائے وزیر اعظم مقرر ہوئے تھے۔اس لئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ آپ کو اشتہار دینے والے کون تھے۔