تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 115 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 115

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 111 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کی منگرانی میں کام کر رہا تھا جس کا قیام جموں اور کشمیر میں ۱۸۷۶ء سے ۱۸۹۰ء تک رہا۔وہ شاہی طبیب بھی تھے اور دار الترجمہ کے نگران بھی۔اس دور میں سنسکرت کی کچھ کتابیں ڈوگری میں منتقل ہوئیں جس میں ایک حساب کی کتاب بھی شامل ہے اور جس کا ذکرڈاکٹر بوہلر نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔اس کا انکشاف انہیں راجپوتانہ میں شکرت کے مخطوطات کی تلاش کے دوران ہوا" (کشمیر میں اردو صفحہ ۱۵-۱۶ مولفہ حیف کیفوی ناشز مرکزی اردو بورڈ پوسٹ بکس ۳۱۷۷ گلبرگ لاہور طبع اول اپریل ۴۱۹۷۹) ۸۵- ولادت ۱۸۵۰ء ( مسند نشینی ۱۲/ ستمبر ۱۸۸۵ ء وفات ۱۹۲۵ء صحیفه زرین صفحه ۶-۸- مختصر تاریخ جموں و ریاستہائے مفتوحہ مہاراجہ گلاب سنگھ بہادر صفحہ ۸۷۰۷۳ ان ہر دو کتب میں مہاراجہ کی تصویر بھی موجود ہے۔جناب ملک صلاح الدین ایم۔اے متولف اصحاب احمد کچھ عرصہ ہوا قادیان سے جموں گئے تھے معلوم ہوا کہ شیخ لفتح محمد صاحب کا مکان اور اس جگہ کی شکل بہت کچھ بدل گئی ہے نیز اس دور کا ریاستی ریکارڈ بھی محفوظ نہیں ہے۔۸۷ مکتوب محمد اکرم خانصاحب آن جموں (مورخه ۲۱ / مارچ ۱۹۷۳ء بتنام متولف بذا) ۰۸۸ مرقاة الیقین صفحه ۱۵۸ - ۸۹ - مرقاة الیقین صفحه ۱۷۴ -4+ مرقاة الیقین صفحہ ۱۴۳۔یار قند۔چینی۔ترکستان کا ایک شہر ہے اور یا بو چھوٹے گھوڑے کو کہتے ہیں (فرهنگ عامرہ) ۹۱ - مرقاۃ الیقین صفحه ۱۴۳ء ۹۲ - مرقاة الیتین صفحه ۱۵۸ ۹۳ تواریخ کشمیر ۲ از سالگ رام مالک آریہ پریس ۱۸۸۸ء میں بھی ہیضہ کی وباعام ہو گئی تھی (اخبار ریاض ہند یکم مئی ۱۸۸۸ء) حیات احمد جلد چهارم صفحہ ۱۹ حاشیہ۔-۹۴ مرقاة الیقین صفحه ۲۱۹ - و مرقاة الیقین صفحه ۱۴۴ ۹۵ مرقاة الیقین صفحه ۱۴۹-۱۵۰ تاریخ اقوام پونچھ صفحہ ۱۷۹۔کشمیر میں ان طبی خدمات کے سلسلہ میں آپ کو ہندی طب کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی اور آپ نے پنڈت ہر نام د اس سے امرت ساگر اور سرت سبقاً سبقاً پڑھی (مرقاۃ الیقین ۱۵۷) اس طرح آپ یونانی ڈاکٹری اور ویدک تینوں علوم میں یکتائے زمانہ بن گئے۔دنیائے طب میں ایک نیا انقلاب آیا۔جس کے نتیجہ میں ہر قسم کی طبی تحقیقات کا اجتماع ہو گیا اور اس انقلاب کے بانی آپ ۹۷- صحیفه زرین صفحه ۸ ۹۸ مرقاة الیقین صفحه ۲۲۸ ۹۹ مرقاۃ الیقین صفحه ۲۲۰۔۱۰۰ مرقاة الیقین صفحه ۲۲۹ ۱۰۱- مرقاة الیقین صفحه ۱۵۳ ۱۰۲- مرقاة الیقین صفحه ۲۲۳ ۱۰۳- مرقاة الیقین صفحه ۲۲۳ ۱۰۴- مرقاة الیقین صفحه ۲۲۱۔۱۰۵ مرقاة الیقین صفحه ۲۲۵۔راجہ پرتاب سنگھ کے چھوٹے بھائی۔۱۰۷۔چنانچہ مین نے کتاب کی تیسری جلد صفحہ ے ے اپر صاف لکھا ہے کہ میں کتب خانہ کے نذر آتش کئے جانے کو قطعا تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں۔۱۰۸ مرقاة الیقین صفحه ۱۵۶ مرقاة الیقین صفحه ۲۲۸-۲۲۹۔