تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 99
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 95 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک چریا کوٹ پھر کلکتہ کو بھیجے اور وہ دو برس میں بڑے کامل عربی دان بن کر واپس آئے اور دو علی گڑھ کے کالج میں بھیجے اور سید احمد خان کے کہنے پر ان کو میں روپے ماہانہ کے قریب دیتے رہے۔غرض قصہ مختصر جب یہ صاحبان میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایک جلسہ کیا اور اپنے خیال میں اہل الرائے احباب کو جمع کیا اور پوچھا سر دست کسی طرح کام شروع کیا جائے۔تو سب ساکت ہوئے آخر میرے اصرار پر وہ عربی دان بولے آپ کو جنون ہے ہم تو طب پڑھ کر رو پیہ جمع کر لیں گے اور بس کہاں کا بکھیڑا نہ ہب مذہب یا قوم یا قوم! علی گڑھ والے بولے ہم نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب پلیڈری کریں گے۔تو روپیہ جمع کر کے بیرسٹری کے لئے ولایت جائیں گے اب مجھے گھبرا کر کچھ کہنے کا ارادہ تھا کہ ایک پیر صاحب بولے۔اجی ہمارے مرید بہت ہیں ہم تمہارے منشاء کے مطابق قرآن کریم ان کو سنوایا کریں گے۔آخر جلسہ مابین ناکامی و کامیابی ( پیر صاحب کے بھولے پن کی مہربانی) برخاست - ایک اور صاحب علی گڑھ میں انگریزی و سنسکرت پڑھتے سے اور پر ہمن کا خون بھی ان میں تھا۔مجھے فرمایا کہ یہ مردہ زبان ہے۔اور اس کے پڑھانے والے احمق پنڈت ہیں میں اب نہیں پڑھ سکتا آخر پلیڈر بن گئے اب ان کی یہ حالت ہے کہ ایک آشنا کو پرائیویٹ خط میں کہتے ہیں کہ قادیانی لوگ لائق تھے مگر کود کر اسلام سے نکل گئے اور خود نہ نماز نہ روزہ نہ زکوۃ نہ حج اور نہ قرآن کریم کا فہم یہ تہذیب اور شائستگی وہاں سیکھی"۔المختصر آپ کی یہ سکیم درمیان میں رہ گئی۔مگر خدا نے آپ کے جذبہ ایمان کو اس درجہ نوازا کہ لاکھوں کی جماعت آپ کے قدموں میں ڈال دی۔جس کے قیام کا مقصد وحید ہی اشاعت اسلام اور تبلیغ قرآن ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں فرمایا۔HA ” میں نے بڑی محنتوں سے قرآن سنانا چاہا۔مگر باوجود خرچ اموال مجھے اس کثرت سے سننے والے نہ ملے۔اب تم اس کثیر تعداد سے سننے والے موجود ہو۔میں نے کوشش سے سنانا چاہا تو بہت کم لوگوں نے سنامگر میرے مولی نے میری سچائی اور دلی تڑپ کو دیکھ لیا اور سننے والے مہیا کر دیئے۔1114۔تفسیر تو رات کے لئے سرسید کا آپ کو بلانا سرسید نے ایک دفعہ تو رات کی تفسیر کرنے بلانا کے لئے غازی پور کے مشہور مناظر اسلام اور عربی و عبرانی کے عالم مولوی عنایت رسول صاحب چریا کوٹی کی خدمات حاصل کیں۔اور ان کی اعانت کے لئے سرسید کی نگاہ انتخاب حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب پر پڑی۔چنانچہ رسالہ " مصنف " علی گڑھ ماہ جون ۱۹۲۲ء صفحہ ۲۰) میں لکھتا ہے۔مولانا عنایت الرسول صاحب نے ایک بار سرسید سے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلامی