تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 98
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 94 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک مجربه مولوی نور الدین حکیم مہاراجہ کشمیر " وغیرہ - رساله منشور محمدی ۱۸۸۷ء (بنگلور) میں آپ کا ایک اہم مضمون چھپا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔جموں میں درس قرآن آپ قرآن مجید کے بے مثال عاشق تھے۔قرآن مجید آپ کے لئے سب سے بڑا روحانی مائدہ تھا اور اس کا درس و تدریس آپ کی روحانی و قلبی تسکین کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ بھیرہ کی طرح ریاست میں بھی آپ کا سلسلہ درس زور شور سے جاری رہا۔اور اس غرض کے لئے آپ نے بے دریغ روپیہ صرف کیا۔آپ کو قرآن سنانے کا کس درجہ بے پناہ شوق تھا اور اس میں کتنی پر تاثیر کشش و جاذبیت ہوتی تھی اس کا کسی قدر اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو بعض خاص مصاحبوں کی مجلس میں جانے کا موقع ملا۔مجلس میں سب ہندو تھے آپ نے دو ایک روزان کو قرآن مجید سنایا۔ایک ہندو جو افسر خزانہ کا بیٹا بھی تھا اور خود بھی خزانہ کا ایک افسر تھا بر سر عام کہنے لگا کہ دیکھو ان کو قرآن سنانے سے روکو درنہ میں مسلمان ہو جاؤ نگا قرآن شریف بڑی دلر با کتاب ہے اور اس کا مقابلہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔اور نور الدین کے سنانے کا انداز بھی بہت ہی دلفریب اور دلرہا ہے۔آپ ایک معقول آمد والے معزز عہدے پر ممتاز تھے تنخواہ اور انعام سرکاری اور پرائیویٹ پریکٹس سب ملا کر بہت سا روپیہ ماہوار آجا تا تھا مگر آپ کا طریق زندگی بہت سادہ تھا اور آپ کا روپیہ سب دینی کاموں پر ہی خرچ ہو تا تھا۔اشاعت قرآن کے لئے ایک سکیم انہی دنوں آپ نے تجویز کی کہ اپنے خرچ پر دو طلبہ کو اعلیٰ درجہ کی عبرانی پڑھوائیں۔دو کو یونانی دو کو سنسکرت اور دو کو انگریزی ایسا ہی دیگر زبانیں اور علوم پڑھائے جائیں اور یہ ایک جماعت ہو جو تمام مذاہب مروجہ کے دینی علوم سے پوری واقفیت حاصل کر کے قرآن شریف کی تغییر لکھے اور خدمت دین میں اپنی زندگی گزارے اس مجوزہ سکیم کا آغاز کیا تھا اور انجام کیا ہوا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں " مجھے یہ سوجھا کہ میں اپنے صرف اپنے خرچ سے ایسے باراں آدمی تیار کروں جن کو ضروریات کے لئے پچاس روپے ماہانہ دیا جائے۔او ر وہ زمانہ کی رفتار پر مصلح بنیں۔عربی کے عالم دو۔عربی کے ماہر دو۔یونانی جانے والے دو۔سنسکرت جاننے والے دو۔انگریزی دان دو۔عربی انگریزی دو۔پھر اس خیال پر دو مولوی بڑے عربی دان اور میرے نزدیک بہت ٹھیک عربی پڑھنے کے لئے پہلے