تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 169 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 169

165 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک استغفار پڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک آپ گر گیا۔پھر آپ دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے۔اور بہت استغفار پڑھا مگربت جوں کا توں موجود تھا تب آپ کو تحریک ہوئی کہ یہاں لاحول کے تیر سے کام لینا چاہئے۔چنانچہ آپ نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا۔تو وہ بت پاش پاش ہو گیا۔اس کی تقسیم یہ ہوئی کہ "نور الدین " کی اشاعت کے بعد دھرمپال کا فتنہ آپ کی زندگی میں مٹایا جائے گا۔اور دوسرا کام خدا تعالی اپنی قدرت سے کر دے گا۔چنانچہ وہ دھرم پال جو اسلام کو دنیا کا نعوذ باللہ سب سے برا مذہب قرار دیتا تھا نئے سرے سے مسلمان ہو کر اسلام کی تعریف میں رطب اللسان ہو گیا۔اور اسلام کے خلاف لکھی ہوئی کتابیں اپنے ہاتھ سے جلا دیں۔51 حضرت مولوی صاحب کا ارادہ ستیارتھ پر کاش کا جواب لکھنے کا بھی تھا۔مگر دوسرے دینی مشاغل نے فرصت نہ دی۔۶۴ سید نا حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۰ / اگست ۱۹۰۴ء کو گورداسپور سے لاہور تشریف سفر لاہور لے گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بھی آنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ آپ اس فرمان پر قادیان سے مع اہل بیت لاہور حاضر ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کو دیکھ کر غیر از جماعت لوگوں کی زبان پر یہ کلمات جاری ہو جاتے کہ ”لو صاحب مرزے کا خلیفہ آگیا" آپ کی تشریف آوری سے قبل لوگ حضور کی زیارت کے لئے آتے تو تھے مگر اکثر ادھر ادھر گھومتے رہتے تھے۔مگر اب وہ دل جمعی سے حضور کے گرد حلقہ باندھ کر بیٹھنے لگے۔حضرت مولوی صاحب کی نشست میاں چراغ الدین صاحب کی مبارک منزل میں تھی۔ہاں روحانی اور جسمانی بیماریوں کے مریض جوق در جوق آپ کے گرد بیٹھے رہتے اور صبح سے لیکر شام تک ای طرح جمگھٹا رہتا۔لوگ آپ کے عزم داستقلال پر عش عش کرتے۔بعض آریوں سے مسئلہ تاریخ پر مباحثہ بھی ہوا۔مولوی محمد عبد اللہ چکڑالوی صاحب کے مرید میاں چٹو بھی کئی گھنٹوں آپ کی مجلس میں بیٹھتے تھے دوران قیام آپ نے ایک خطبہ میں سورہ کوثر کے نکات بھی بیان فرمائے۔گوداسپور میں قیام آخر اگست ۱۹۰۴ء سے شروع اکتوبر ۱۹۰۴ء تک آپ مقدمات کرم دین کے سلسلہ میں گورداسپور مقیم رہے۔ہفتہ بعد آپ کا چھوٹا صاحبزادہ عبد القیوم سخت بیمار ہو گیا اس وجہ سے آپ نے اہل وعیال کو بھی بلوالیا۔گورداسپور میں آپ کی مجلس علم و حکمت جاری رہی اور لوگ آپ سے استفادہ کرتے رہے۔مگر درس قرآن کا با قاعدہ سلسلہ قادیان میں ہی اگر شروع ہوا۔