تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 170
166 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک محکمہ ابطال الوہیت مسیح اسی سال آپ کا ایک رسالہ عیسائیت کے رد میں شائع ہوا جس کا نام تھا۔ابطال الوہیت مسیح " سفر سیالکوٹ آخر اکتوبر ۱۹۰۴ء میں آپ حضرت اقدس کی معیت میں سیالکوٹ تشریف لے گئے اور احباب کو اپنے وعظ سے نوازا۔۲ / نومبر کو حضور کا مشہور لیکچر مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھ کر سنایا۔جلسہ گاہ میں شامیانوں کے نیچے لکڑی کا ایک سٹیج تھا جس میں حضور کے ساتھ ہی ایک کرسی پر آپ بیٹھے تھے اور آپ کی صدارت میں جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔صدارتی خطاب میں فرمایا۔دنیا میں بہت سے جلسے ہوا کرتے ہیں جنکے اغراض مختلف ہوتے ہیں بعض مصالح ملکی کے لئے ہوتے ہیں۔اور بعض اصلاح قوم کے لئے اور بعض درستی اخلاق کے واسطے حسن اتفاق سے خوش قسمتی کے طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ صاحبان کو یہ موقعہ دیا ہے کہ ایک لیکچر سنیں اور اس پر غور کریں۔۔۔میں امید کرتا ہوں اور خدا سے توفیق چاہتا ہوں کہ ”شوق سے سنیں اور پھر عمل درآمد کی طرف بھی ان کو توجہ ہو۔" اس کے بعد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے حضرت اقدس کار تم فرمودہ لیکچر پڑھ کر سنایا اور آخر میں آپ نے اٹھ کر تقریر فرمائی اور جلسہ برخاست ہوا۔زلزلہ کانگڑہ پر لطیف نوٹ کانگڑہ میں ۱۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق قیامت خیز زلزلہ آیا تھا ایک خط جوالا مکھی کی تباہی کے بارے میں پہنچا تو آپ نے شیخ یعقوب علی صاحب تراب سے فرمایا۔میں دیر تک خدا کی حمد کرتا رہا اور سجدات شکر بجالایا۔اور میرا دل عجیب جوش سے بھر گیا کہ یہ زلزلہ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائم کرنے کے واسطے مبارک فال ہے۔کانگڑہ میں بڑا بھاری شرک کا مندر تھا خد اتعالیٰ نے اسے تباہ کر دیا اس کے بعد آپ نے ایک شیخ صاحب کی درخواست پر ایک لطیف نوٹ بھی ان کو شائع کرنے کے لئے لکھ دیا جس میں تحریر فرمایا۔” وہاں زلزلہ آیا اور اس اعجوبہ سے آیا اور کب آیا جب ایک مامور من اللہ نے انبیاء کے قدم بقدم تبلیغ کا کام ایک کمال تک پہنچا دیا۔پھر اس پنجاب میں اتمام حجت کے لئے سینکڑوں تدبیروں سے کام لیا۔مگر بے پروائی کی گئی۔آخر راستبازی مصدق راستبازوں کا ہو سکتا تھا کیونکہ اس کی شان ہے مصدق لما معكم اس راست باز نے عفت الديار محلها و مقامها کی پاک وحی گیارہ مہینے پیشتر شائع کی ہے اور بتا دیا۔کہ بیرونی عارضی طور پر ایک خاص دار کے رہنے والے اور وہاں کے اصلی