تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 86
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۸۳ جدی بھائیوں کی طرف سے اندار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار تحفہ غزنویہ کی تصنیف و اشاعت مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں سخت بد زبانی ، ٹھٹھا اور نہی کی تھی اس اشتہار میں دو رنگ کے حملے کئے گئے تھے۔اول بعض گزشتہ نشانوں اور پیشگوئیوں کو جو فی الواقع پوری ہو چکیں یا وہ عنقریب پوری ہونے کو تھیں ان کو پیش کر کے عوام کو یہ دھوکا دینا چاہا کہ گویا وہ پوری نہیں ہو ئیں۔دوم حضرت اقدس نے خدا تعالیٰ کے الہام سے بطور اتمام حجت یہ تجویز پیش کر رکھی تھی کہ بیماروں کی شفاء کے ذریعہ سے استجابت دعا کا مقابلہ کیا جائے۔مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے اس اشتہار میں اس پر جرح کی کہ بھلا سارے مشائخ و علمائے ہند کیونکر ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔پھر ان کے اخراجات کا متحمل کون ہو گا۔؟ حضرت اقدس نے اس اشتہار کے ان دو نو حملوں کے جواب میں " تحفہ غزنویہ " کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوا۔اور اس میں ان تمام غلط فہمیوں اور وسوسوں کا ازالہ فرمایا جو یہ حضرات عوام کو حق و صداقت سے منحرف کرنے کے لئے استعمال کر رہے تھے۔”خطبه الهامیہ “ کا زبرست علمی نشان ا۔اپریل ۱۹۰۰ء کو عید الاضحیہ کی تقریب تھی لہذا اس موقع پر سیالکوٹ امرتسر، بٹالہ لاہور ، وزیر آباد جموں ، پشاور ، گجرات ، جہلم، راولپنڈی ، کپور تھلہ لودھیانہ ، پٹیالہ بمبئی لکھنو ، سنور بہت سے مقامات سے مہمان آئے جن کی تعداد تین سو سے زیادہ تھی۔حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت تک متعدد عربی تصانیف فرما چکے تھے جن کی فصاحت و بلاغت نے عرب و عجم میں دھوم مچارکھی تھی مگر عربی میں تقریر کرنے کی آپ کو آج تک نوبت نہیں آئی تھی لیکن اس دن آپ کو صبح کے وقت بذریعہ الہام تحریک ہوئی کہ " آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی۔نیز الہام ہو ا کلام افصحت من لدن رب کریم یعنی کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔21 جناب الہی سے یہ ارشاد پاتے ہی آپ نے اپنے بہت سے خدام کو اس کی اطلاع کر دی۔نیز مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی نور الدین صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ عید کے وقت قلم و دوات اور کاغذ لے کر آئیں تا خطبہ قلمبند کر سکیں۔آٹھ بجے تک مسجد اقصیٰ قریبا پر ہو چکی تھی۔حضرت اقدس کوئی ساڑھے آٹھ بجے تشریف لائے۔سوا نو بجے عید کی نماز مسجد اقصی میں پڑھی گئی جو