تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 87 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 87

تاریخ احمد بہت جلد ۳ جدی بھائیو از کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی۔نماز کے بعد حضور کے لئے مسجد کے پرانے صحن میں جنوبی ڈاٹ کے آگے کرسی رکھ دی گئی۔حضور خطبہ کے لئے مسجد کے وسطی دروازہ میں کھڑے ہوئے اور اردو میں ایک لطیف اور پر معارف خطبہ ارشاد فرمایا۔اردو خطبہ کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی نور الدین صاحب حضور کے بائیں طرف بیٹھ گئے۔حضور نے کھڑے ہو کر " یا عباد الله" کے لفظ سے فی البدیہ عربی خطبہ پڑھنا شروع کیا۔آپ نے ابھی چند فقرے ہی کہے تھے کہ حاضرین پر جن کی تعداد کم و بیش دو سو تھی وجد کی ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔محویت کا یہ عالم تھا کہ بیان سے باہر ہے۔خطبہ کی تاثیر کا وہ اعجازی رنگ پیدا ہو گیا کہ اگر چہ مجمع میں عربی دان معدودے چند تھے مگر سامعین ہمہ تن گوش تھے۔غرض یہ ایک ایسا روح پرور نظارہ تھا کہ تیرہ سو سال کے بعد آنحضرت کی پاک مجلس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔حضرت مسیح موعود کی حالت یہ تھی کہ آپ کی شکل و صورت زبان اور لب ولہجہ سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ آسمانی شخص ایک دوسری دنیا کا انسان ہے جس کی زبان پر عرش کا خدا کلام کر رہا ہے۔خطبہ کے وقت آپ کی حالت اور آواز میں ایک تغیر محسوس ہو تا تھا۔ہر فقرہ کے آخر میں آپ کی آواز بہت دھیمی اور باریک ہو جاتی تھی۔اس وقت آپ کی آنکھیں بند تھیں۔چہرہ سرخ اور نہایت درجہ نورانی! خطبہ کے دوران میں حضور نے خطبہ لکھنے والوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر کوئی لفظ سمجھ میں نہ آئے تو اسی وقت پوچھ لیں ممکن ہے کہ بعد کو میں خود بھی بتا نہ سکوں۔پھر اس قدر تیزی سے آپ کلمات بیان فرماتے تھے کہ زبان کے ساتھ قلم کا چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔ان ہر دو وجوہ سے مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی نور الدین صاحب کو جو خطبہ نویسی کے لئے مقرر تھے بعض دفعہ الفاظ پوچھنا پڑتے تھے۔چنانچہ خطبہ میں جب خناطیل کا لفظ آیا تو انہیں اس کے متعلق دریافت کمرنے کی ضرورت ہوئی۔یہ تو وہ تاثر تھا جو سامعین لے رہے تھے مگر خود حضرت اقدس علیہ السلام جو اس وقت آسمانی انوار و برکات کے ضبط و مورد تھے آپ کے اندر اس وقت اتنی غیبی قوت کام کر رہی تھی کہ جیسا کہ آپ نے بعد ازاں بتایا کہ آپ یہ امتیاز نہیں کر سکتے تھے کہ میں بول رہا ہوں یا میری زبان سے فرشتہ کلام کر رہا ہے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس کلام میں میرا د خل نہیں خود بخود برجستہ فقرے آپ کی زبان پر جاری ہوتے تھے۔بعض اوقات الفاظ لکھے ہوئے بھی نظر آجاتے تھے اور ہر ایک فقرہ ایک نشان تھا۔اس طرح جوں جوں آپ پر کلام اتر ما گیا آپ بولتے گئے۔یہ سلسلہ کافی وقت تک جاری رہا جب یہ کیفیت زائل ہو گئی تو حضور نے خطبہ ختم کر دیا اور آپ کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔