تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 85 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 85

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۸۲ جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار تکلیف پہنچی ہے " اور اس کارروائی پر جو آپ کی لاعلمی میں ڈگری کے اجراء کے متعلق کی گئی خفگی کا اظہار فرمایا۔حضور نے ۲۱ / اکتوبر ۱۹۰۴ء کو باقاعدہ ایک تحریر بھی عدالت کو بھجوائی کہ میں مرزا نظام الدین صاحب کو مقدمہ دیوار کے خرچہ کی رقم معاف کرتا ہوں جس کی ڈگری کا اجراء میرے مختار حکیم فضل دین صاحب نے کروایا ہے۔میرا خرچہ کا کوئی مطالبہ نہیں اس لئے کاغذات داخل دفتر کئے جائیں۔عید الفطر اور جلسہ دعا" - مقدمہ دیوار کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد میں دوبارہ ۱۹۰۰ء کے حالات کی طرف آتا ہوں۔۲ فروری ۱۹۰۰ء کو عید الفطر تھی جس میں حضور کی تحریک پر قادیان اور اس کے قریبی دیہات کے علاوہ مدراس، کشمیر، شاہجہانپور (یو پی) جھنگ ، ملتان ، پٹیالہ سنور کپور تھلہ مالیر کوٹلہ لدھیانہ شاہ پور، سیالکوٹ ، گجرات، لاہور، امرتسر، بٹالہ اور گورداسپور وغیرہ مقامات سے ایک ہزار سے متجاوز افراد جمع ہو گئے۔حضور صبح ۸ بجے اپنی جماعت کے ساتھ اس وسیع میدان میں جو قصبہ قادیان کی غربی جانب واقع اور قدیمی عید گاہ ہے تشریف لے گئے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے نماز عید الفطر پڑھائی۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک نہایت لطیف اور مئوثر خطبہ دیا جس میں سورہ والناس کی تفسیر کرتے ہوئے عجیب و غریب نکات و معارف بیان کئے۔ان دنوں چونکہ انگریزی حکومت جنوبی افریقہ کے مقامی باشندوں سے نبرد آزما تھی۔اس لئے آپ نے اپنی تقریر میں حکومت کی طرف سے آزادی مذہب کی پالیسی کو سراہتے ہوئے احباب کو اس کی فتح کے لئے دعا کی پر زور تحریک کی بلکہ تقریر کے بعد آپ نے حاضرین سمیت دعا بھی فرمائی a اس مناسبت سے اس تقریب کو " جلسہ دعا" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔زخمیوں کے لئے امداد دعا کے علاوہ حضور نے ۱۰ / فروری ۱۹۰۰ء کو بذریعہ اشتہار جنگ ٹرانسوال کے مجرد حین کی امداد کے لئے چندہ کی تحریک بھی کی جس پر جماعت کے دوستوں کی طرف سے پانچ سو روپیہ کی امدادی رقم جمع ہوئی جو انہی ایام میں حکومت کو بھجوا دی گئی۔