تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 75
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار حضور نے فیصلہ کیا کہ وفد بھی اسی مقام پر پیش ہو چنانچہ وفد کے نامزد اصحاب کو اطلاعات بھیجوا دی گئیں اور وہ تاریخ مقررہ سے پہلے ہی قادیان پہنچ گئے۔حضور نے مناسب ہدایات دیں اور جماعت کا وفد (جو قریباً پچاس نفوس پر مشتمل تھا) حافظ حاجی حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی قیادت میں ہر چو وال کے بنگلہ پر پہنچا۔قافلہ کے ترجمان حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر اخبار الحکم تھے جن کو اس زمانہ میں عموماً ایسی خدمات سپرد ہوتی تھیں۔حضرت شیخ صاحب ، حکیم فضل الدین صاحب، چوہدری حاکم علی صاحب نمبردار چک پنیار ضلع سرگودھا اور بعض اور دوست آگے تھے۔ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچ کر حضرت شیخ صاحب نے ابھی یہ کہا تھا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں اور کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر نے بات تک سننا گوارا نہ کیا اور نہایت غصہ سے کہا کہ " تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں اب جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائیگا کہ کس طرح ایسی جماعت بنایا کرتے ہیں "۔نیز سپرنٹنڈنٹ پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ ”ان لوگوں کا بندوبست کرنا چاہیے " اور بڑے جوش سے کہا " چلے جاؤ ورنہ گرفتار کر لئے جاؤ گے"۔حضرت شیخ صاحب نے کہا۔آپ ہماری عرض تو سن لیں۔اس پر وہ اور غضب ناک ہو گیا اور وفد واپس آگیا۔اولاً ہجرت ثانیا مقدمہ کرنے کا فیصلہ ضلع کے سب سے بڑے حاکم کے اس ناروا سلوک سے صورت حال اور زیادہ تشویشناک ہو گئی جس پر حضور نے اپنے خدام سے مشورہ کیا کہ اب یہاں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہم نے تو کام کرتا ہے یہاں نہیں تو کہیں اور سی اور ہجرت بھی انبیاء کی سنت ہے۔پس میرا ارادہ ہے کہ کہیں باہر چلے جائیں۔اس پر سب سے قبل حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں وہاں میرے مکانات حاضر ہیں۔اور کسی طرح کی تکلیف نہیں۔ان کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب نے سیالکوٹ، شیخ رحمت اللہ صاحب نے لاہور چوہدری حاکم علی صاحب نے اپنے گاؤں چک پنیار تشریف لے چلنے کی مخلصانہ دعوت دی لیکن ۱۸۸۷ء کی طرح اب کی دفعہ بھی ہجرت کی تجویز درمیان ہی میں رہ گئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ عدالت دیوانی میں مقدمہ دائر کیا جائے۔عدالت میں مقدمہ چنانچه مشی خدا بخش صاحب (گورداسپور کے ڈسٹرکٹ جج) کی عدالت میں آپ کی طرف سے مقدمہ درج کرایا گیا۔حضرت اقدس کی پوری زندگی