تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۷۳ جدی بھائیوں کی طرف سے اندار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار میں یہ پہلا اور آخری موقعہ ہے کہ آپ نے مدعی کی حیثیت سے کسی کے خلاف نالش کی ہے۔آپ نے ہمیشہ دکھ اور تکلیفیں ہیں مگر کسی کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور قانونی شکنجہ میں لانے کا خیال تک ذہن میں نہیں لائے لیکن یہ معاملہ جماعتی اعتبار سے زندگی اور موت کا معاملہ تھا اور دوسری طرف وکلاء کا یہ مشورہ تھا کہ یہ راستہ چونکہ خاندان کا پرائیویٹ رستہ ہے لہذا آپ کے سوا کسی اور شخص کو قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق نہیں پہنچتا اس لئے مجبوراً آپ کو خلاف معمول یہ آخری اور ناگزیر اقدام کرنا پڑا۔اب جو نائش ہوئی تو ایک پرانی مسل کے ملاحظہ سے معلوم ہوا کہ دعوی ہے بنیاد ہے اور اس کا خارج ہونا یقینی ہے کیونکہ جس زمین پر دیوار کھنچی گئی تھی اس کی نسبت کسی پہلے وقت کی مسل کی رو سے ثابت ہو تا تھا کہ مدعی علیہ قدیم سے اس کا قابض ہے اور یہ زمین دراصل کسی اور شریک کی تھی جس کا نام غلام جیلانی تھا اور اس کے قبضہ سے نکل گئی تھی اور اس نے مرزا امام دین صاحب کو اس کا قابض خیال کر کے گورداسپور میں بصیغہ دیوانی نالش کی تھی اور مخالفانہ قبضہ کے ثبوت کی وجہ سے وہ نالش خارج ہو گئی تھی تب سے مرزا امام دین صاحب کا اس پر قبضہ چلا آتا تھا جس سے بالوضاحت ثابت ہو تا تھا کہ اس زمین پر قبضہ مدعی علیہ کا ہے۔یہ عقدہ لا نخل دیکھ کر آپ کے مرید خواجہ کمال الدین صاحب نے (جو اس مقدمہ میں آپ کے وکیل تھے ) یہ مشورہ دیا کہ بہتر ہو گا کہ کچھ روپیہ دے کر مصالحت کرلی جائے اور آپ مجبورا اس پر رضامند ہو گئے تھے مگر مرزا امام دین صاحب اپنی مخالفت میں اور زیادہ بڑھ گئے اور فیصلہ کر لیا کہ مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار حضور کے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دیں تا آپ قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نہ نکل سکیں۔حضور خود فرماتے ہیں:۔یہ دن بڑی تشویش کے تھے یہاں تک کہ ہم ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَ حُبَتْ کا مصداق ہو گئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی۔" جناب اللی کی طرف سے الہامات اور فتح کی بشارت ان حالات میں حضور کی توجہ جناب الہی کی طرف ہوئی جس پر حضور پر الہامات کا ایک سلسلہ جاری ہوا جس میں حضور کی کامیابی کی خوشخبری دی گئی تھی۔اس وحی الہی کے الفاظ یہ تھے:۔الرحى - تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ - إِنَّ فَضْلَ اللهِ لَاتِ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَرُدُّ مَا أَتَى قُلْ إلى وَرَتِى إِنَّهُ لَحَقُّ لَا يَتَبَدَّلُ وَلَا يَخْفِي - وَيَنْزِلُ مَا تَعْجَبُ مِنْهُ وَحَيَّ مِنْ رَبِّ السَّمَوتِ العلى - إِنَّ رَتِي لَا يُضِلُّ وَلَا يَنْسَى فَفْرُ مُّبِيْنَ - وَإِنَّمَا يُؤْ خِرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى أَنْتَ مَعِدَ وَ وه