تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 66
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ оран " حقیقته الممدی " کی تصنیف و اشاعت تصنیف " مسیح ہندوستان میں "سفر نصیسین کی تجویز اور جلسہ الوادع" حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی قبر کا انکشاف تو ایک عرصہ سے ہو چکا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف کتابوں میں اجمالاً اس پر روشنی بھی ڈالی تھی مگر اس نظریہ کی اہمیت و عظمت کے پیش نظر اس موضوع پر ایک مستقل تصنیف کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جسے حضرت اقدس نے کتاب " مسیح ہندوستان میں لکھ کر پورا کر دیا۔یہ کتاب اپریل ۱۸۹۹ء میں تصنیف ہوئی اور ۲۰/ نومبر ۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی۔اس میں حضور نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے صلیب سے زندہ اتر آنے اور پھر کشمیر کی طرف ہجرت کرنے اور عمر طبعی سے وفات پانے کا ایسے زبر دست عقلی و نقلی دلائل سے ثبوت دیا ہے کہ ایک محقق کو آپ کا نظریہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے۔باب اول: مسیح کے صلیبی موت سے بچنے پر انجیلی دلائل۔باب دوم : ان شہادتوں کے بیان میں جو حضرت مسیح کے صلیبی موت سے بچ جانے کی نسبت قرآن و حدیث سے ملتی ہیں۔باب سوم : ان شہادتوں کے بیان میں جو طب کی کتابوں سے ملتی ہیں جن سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے زندہ اتر آئے اور ان کے : خموں کے لئے مرہم بنائی گئی جس کا نام " مرہم عیسی " تھا۔باب چهارم : ان شہادتوں کے بیان میں جو تاریخی کتابوں سے لی گئی ہیں جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد اپنے ملک سے ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے کا ذکر آتا ہے۔اس باب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی لٹریچر، بدھ مت کی کتابوں اور دیگر تاریخی کتابوں سے مسیح کی سیاحت پر روشنی ڈالی ہے اور تاریخ سے ثابت کیا ہے کہ مسیح کی کھوئی ہوئی بھیڑیں "کشمیر اور افغانستان میں آباد تھیں اور ان ممالک کے باشندے اسرائیلی ہیں۔کتاب میں حضور نے مرد معلم سے سرینگر پہنچنے کا نقشہ سفر بھی دیا۔حضور کا منشاء مبارک کتاب کی تصنیف سے قبل دس ابواب میں اپنی تحقیق پیش کرنے کا تھا مگر اس کتاب میں جو فی الحقیقت مجوزہ کتاب کا پہلا حصہ 10 تھا صرف ابتدائی چار ابواب پر ہی آپ نے اکتفاء کی اور باقی ابواب کا مواد فراہم کرنے کے لئے (جس میں بعض اہم زبانی روایات ، قرائن متفرقہ اور