تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 67 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 67

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۶۴ " حقیقته المهدی " کی تصنیف و اشاعت معقولی اور الہامی شہادتوں سے بھی اس پہلو پر بحث کرنا آپ کے مد نظر تھا) حضور نے اپنے مخلص مرید خلیفہ نور دین aa صاحب کو قبر مسیح کی پوری تحقیقات کے لئے کشمیر بھیجا جنہوں نے اپنا خرچ کر کے وہاں قریباً چار ماہ تک قیام کیا اور بالا خر۱۷ ستمبر ۱۸۹۹ء کو قبر کا نقشہ تیار کر کے اور اس پر پانچ سو چھپن باشندگان کشمیر کی تصدیق بھی کر الائے کہ یہی حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے جسے عام لوگ شہزادہ نبی کی قبرادر بعض یوز آسف نبی اور بعض نبی صاحب کی قبر سے موسوم کرتے ہیں۔ان شہادتوں سے قبر مسیح کی تحقیق تو پایہ ثبوت تک پہنچ گئی اور آپ وند نصیبین کی تجویز کے نظریہ کی صحت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی تھی مگر حضور یہ تحقیق پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کشمیر کے علاوہ نصیین کوہ نعمان اور کابل کی طرف بھی وفد بھجوانا چاہتے تھے کیونکہ ان مقامات میں حضرت مسیح کے پہنچنے کا سراغ ملتا تھا۔چنانچہ مشہور تاریخ کتاب "ر دفتہ الصفا" سے ثابت ہے کہ فتنہ صلیب کے وقت نصیین کے بادشاہ نے حضرت مسیح مو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی اور ایک انگریز اس پر گواہی دیتا ہے کہ حضرت مسیح کو واقعی بادشاہ کی طرف سے دعوت نامہ آیا تھا اور اس انگریز نے اپنی کتاب میں بادشاہ کا یہ خط بھی درج کیا ہے۔ان حالات میں حضور یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ نفیسین کے آثار قدیمہ کی چھان بین کی جائے تو اس میں حضرت مسیح کی آمد کا کوئی اور واضح ثبوت بر آمد ہو جائے گا اور کوہ نعمان کی طرف وفد بھیجنے کی ضرورت یہ تھی کہ آثار سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام افغانستان سے کوہ نعمان میں گئے اور وہاں ایک مدت تک ان کا قیام رہا تھا۔حضور کو جولائی ۱۸۹۹ء کے ابتداء میں یہ اطلاع ملی تھی کہ ایک "شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک جلال آباد علاقہ کابل) میں موجود ہے اور اس چبوترے کے نام ریاست کابل میں کوئی جاگیر بھی موجود ہے جس کے کاغذات کی نقل حاصل کرنا آپ کے مد نظر تھا۔کابل اور کوہ نعمان بھجوانے کے لئے تو انہی علاقوں کے آدمی متعین کئے گئے۔"جلسه الوداع" مگر سفر نصیین کے لئے حضور نے تین افراد پر مشتمل ایک وفد تیار کیا جس کے امیر مرزا خدابخش صاحب نامزد ہوئے ( جو شہر جھنگ سے ہجرت کر کے قادیان میں آرہے تھے اور دن رات خدمت میں مصروف تھے ) حضرت میاں جمال الدین صاحب اور مولوی حکیم قطب الدین صاحب بد و ملحی بطور رکن قرعہ اندازی سے شامل وفد کئے گئے - in - وفد کے اخراجات کے لئے حضرت اقدس نے ۴ / اکتوبر ۱۸۹۹ء کو بذریعہ اشتہار ایک پر زور تحریک فرمائی جس پر لبیک کہتے ہوئے حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی نے مرزا خدابخش صاحب کا سفر خرچ