تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 65
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۶۲ " حقیقته " کی تصنیف و اشاعت کے بعد۔۔۔۔ایک سال کے اندر میرے نشان تمام دنیا پر غالب نہ ہوں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں میں راضی ہوں کہ اس جرم کی سزا میں سولی دیا جاؤں اور میری ہڈیاں توڑی جائیں۔لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے۔جس کے الہام سے میں نے اس عریضہ کو لکھا ہے وہ میرے ساتھ ہو گا اور میرے ساتھ ہے وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور قوموں کے سامنے شرمندہ نہ کرے گا۔اس کی روح ہے جو میرے اند ر بولتی ہے۔" حکومت انگریزی اگر مامور وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سرکاری سطح پر اس نوع کا جلسہ منعقد کر لیتی تو بلا مبالغہ اس کا بہت بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا اور اسلام کی تبلیغ کی متعدد نئی راہیں نکل آئیں مگر حکومت نے اس طرف چنداں التفات نہیں کیا اور دنیا ایک سنہری موقعہ سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئی۔مقدمہ گوڑگانواں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جنوری ۱۸۹۷ء میں عیسائیوں کو ایک ہزار روپے کا ایک انعامی اشتہار دیا تھا جس میں حضور نے لکھا تھا کہ ” میرا دعویٰ ہے کہ یسوع کی پیشگوئیوں کی نسبت میری پیشگوئیاں اور میرے نشانات زیادہ ہیں۔اگر کوئی پادری میری پیشگوئیوں اور میرے نشانوں کی نسبت یسوع کی پیشگوئیاں اور نشان ثبوت کے رو سے قوی تر دکھلا سکے تو میں اس کو ایک ہزار روپیہ نقد دوں گا۔" اس اشتہار کو دیکھ کر جب کوئی عیسائی مرد میدان نہ بن سکا تو ایک مسلمان عالم اصغر علی حسین صاحب نے گوڑگانواں میں لالہ جوتی پر شاد مجسٹریٹ کی عدالت میں حضرت مسیح موعود کے خلاف نالش کی کہ میں مرزا صاحب کے اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں کیونکہ میں بھی حضرت عیسی کو مانتا ہوں اس واسطے میں بھی عیسائی ہوں اور مجھے مرزا صاحب سے ان کے اشتہار کے مطابق ایک ہزار روپیہ دلایا جائے۔اخبار ” عام " اور "ست دھرم " وغیرہ ہندو اخبارات کو جو نہی یہ معلوم ہوا تو انہوں نے اس پر لمبے چوڑے مخالفانہ نوٹ لکھے مقدمہ کا سمن قادیان پہنچا تو حضور نے پیروی کے لئے مولوی محمد علی صاحب ایم اے ، مرزا خدا بخش صاحب اور مرزا افضل بیگ صاحب مختار قصوری کو بھجوایا۔لالہ جوتی پر شاد نے سرسری سی کارروائی کے بعد مقدمہ خارج کر دیا اور زبانی کہا کہ دراصل یہ مقدمہ تو سماعت کے قابل نہ تھا مگر ہم نے اس خیال سے رکھ لیا تھا کہ اس بہانہ سے حضرت مرزا صاحب کی زیارت ہو جائے گی مگروہ تشریف نہیں لائے اس لئے اسے ہیں ختم کرتا ہوں۔