تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 622 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 622

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۸۷ علیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیه کوئی دور کی جھلک بھی نظر نہیں آتی تھی۔خوراک لباس وغیرہ کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادات نہایت درجہ سادہ تھیں، جو کھانا بھی آپ کے سامنے رکھ دیا جاتا آپ اسے بے تکلفی سے تناول فرماتے اور کبھی کسی کھانے پر اعتراض نہیں کیا اور نہ کبھی کھانے پینے کے شوقین لوگوں کی طرح کسی خاص کھانے کی خواہش کی۔یہ نہیں کہ ملامتی فرقہ کے لوگوں کی طرح آپ کو اچھے کھانے سے پر ہیز تھا اور ضرور ادنی کھانا ہی کھاتے تھے بلکہ جو کھانا بھی میسر آتا آپ اسے خوشی کے ساتھ کھاتے اور عموماً سادہ غذا کو پسند فرماتے۔اسی طرح جو لباس بھی گھر میں تیار کروا دیا جاتا یا باہر سے تحفتہ " آجاتا۔آپ اسے خوشی کے ساتھ استعمال فرماتے تھے مگر سادہ لباس پسند تھا اور کسی قسم کے فیشن وغیرہ کا خیال تک نہ آتا تھا۔ایک دفعہ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنے ایک غریب رشتہ دار کو جسے کوٹ کی ضرورت تھی اپنا ایک استعمال شدہ کوٹ بھجوایا۔میر صاحب کے اس عزیز نے اس بات کو بہت برا منایا کہ مستعمل کوٹ بھیجا گیا ہے اور ناراضگی میں کوٹ واپس کر دیا۔جب خادم اس کوٹ کو واپس لا رہا تھا تو اتفاق سے اس پر حضرت مسیح موعود کی نظر پڑ گئی۔آپ نے اس سے حال دریافت فرمایا۔اور جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ کوٹ میر صاحب کو واپس جا رہا تو حضرت مسیح موعود نے اس خادم سے یہ کوٹ لے لیا اور فرمایا واپس کرنے سے میر صاحب کی دل شکنی ہو گی تم مجھے دے جاؤ میں خود یہ کوٹ پہن لوں گا اور میر صاحب سے کہہ دینا کہ کوٹ ہم نے اپنے لئے رکھ لیا ہے۔یہ ایک بہت معمول ساگھر یلو واقعہ ہے مگر اس سے حضرت مسیح موعود کے اعلیٰ اخلاق اور بے تکلفانہ زندگی پر کتنی روشنی پڑتی ہے۔پیروں اور سجادہ نشینوں میں یہ ایک عام مرض ہے کہ کوئی مرید پیر کے برابر ہو کر نہیں بیٹھ سکتا۔یعنی ہر مجلس میں پیر کے لئے ایک مخصوص مسند مقرر ہوتی ہے اور مریدوں کو اس سے ہٹ کر مچلی جگہ بیٹھنا پڑتا ہے بلکہ پیروں پر ہی حصر نہیں دنیا کے ہر طبقہ میں مجلسوں میں خاص مراتب ملحوظ رکھے جاتے ہیں اور کوئی شخص انہیں توڑ نہیں سکتا لیکن حضرت مسیح موعود کی مجلس میں قطعا کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ کی مجلس میں ہر طبقہ کے لوگ آپ کے ساتھ مل کر اس طرح ملے جلے بیٹھتے تھے کہ جیسے ایک خاندان کے افراد گھر میں مل کر بیٹھتے ہیں۔اور بسا اوقات اس بے تکلفانہ انداز کا یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود بظاہر اوٹی جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اچھی جگہ مل جاتی تھی۔مثلاً بیسیوں مرتبہ ایسا ہو جاتا تھا کہ چارپائی کے سرہانے کی طرف کوئی دوسرا شخص بیٹھا ہے اور پائنتی کی طرف حضرت مسیح موعود ہیں۔یا تنگی چارپائی پر آپ ہیں اور بستر والی چارپائی پر آپ کا کوئی مرید بیٹھا ہے۔یا اونچی جگہ میں کوئی مرید ہے اور نیچی جگہ میں آپ ہیں مجلس کی اس صورت کی وجہ سے بسا