تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 621 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 621

تاریخ احمدیت جلد ۲ سنو ہے حاصل اسلام تقوی مسلمانو! بتاؤ نام تقوی ۵۸۶ حلیہ مبارک " خصائل و شمائل اور اخلاق عالیہ خدا کا عشق سے اور جام تقویٰ کہاں ایماں اگر ہے خام تقومی 10 یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدادی فسبحان الذي اخزى الاعادي راست گفتاری کی صفت تقویٰ و طہارت ہی کا ایک حصہ ہے لیکن چونکہ اس پر راست گفتاری ایک روحانی مصلح کے دعوی کی بنیاد ہوتی ہے اس لئے اس کے متعلق ایک علیحدہ نوٹ نا مناسب نہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود کی راست گفتاری نہایت نمایاں اور مسلم تھی۔ظاہر ہے کہ عام حالات میں ہر شخص ہی سچ بولتا ہے اور بلا وجہ کوئی شخص راستی کے طریق کو ترک نہیں کرتا۔پس اس معاملہ میں انسان کا اصل امتحان عام حالات میں نہیں ہو تا بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ ایسے حالات میں بھی صداقت پر قائم رہے جب کہ ایسا کرنے میں اس کی ذات یا اس کے عزیز و اقارب یا اس کے دوستوں اور تعلق داروں یا اس کی قوم و ملک کو کوئی نقصان پہنچا ہو۔ان حالات میں راست گفتاری حقیقتہ ایک بڑی قربانی کا درجہ رکھتی ہے اور وہی شخص اسے اختیار کر سکتا ہے جو سچائی کے مقابلہ پر ہر دنیوی نفع اور ہر دیوی رشتہ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو اور سچائی کے اختیار میں بظاہر جتنا زیادہ نقصان ہو یا جتنا زیادہ خطرہ درپیش ہو اتنی ہی اس کے مقابلہ پر اس قربانی کا درجہ نہایت بلند ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے لئے چونکہ ایک روحانی مصلح بنا مقدر تھا اس لئے آپ کی زندگی میں ایسے متعدد موقعے پیش آئے کہ جب راستی کو اختیار کرنا آپ کے لئے بظاہر بہت بڑے نقصان یا خطرے کا باعث تھا مگر آپ نے ہر ایسے موقعہ پر اپنے نفع اور فائدہ کو پر پیشہ کے برابر بھی حیثیت نہیں دی اور ایک مضبوط چٹان کی طرح صداقت اور راستی پر قائم رہے اور ہر قسم کے نقصان اور خطرے کو برداشت کیا مگرسچ کا دامن نہیں چھوڑا۔تکلفات سے پاک زندگی حضرت مسیح موعود کے اخلاق و عادات کا ایک اور نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ کی زندگی کلیتہ تکلفات سے پاک تھی یعنی نہ صرف جیسا کہ اس باب کے شروع میں بتایا گیا ہے۔آپ خوراک اور لباس وغیرہ کے معاملہ میں بالکل سادہ مزاج تھے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ اور اخلاق کے ہر پہلو میں آپ کا ہر طریق ہر جہت سے سادہ اور ہر قسم کے تکلفات سے بالا تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق تمام مصنوعی آرائشوں سے آزاد ہو کر اپنے قدرتی زیور میں جلوہ افروز ہیں۔کھانے میں پینے میں سونے میں جاگنے میں کام میں ، آرام میں تکلیف میں آسائش میں سفر میں حضر میں عزیزوں میں بیگانوں میں گھر کے اندر گھر کے باہر غرض زندگی کے ہر پہلو میں آپ کے اخلاق و عادات اپنے فطری بہاؤ پر چلتے تھے اور ان میں تکلف کی