تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 623
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۸۸ حلیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیہ اوقات ایک نو دارد کو دھو کہ لگ جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کون ہیں ؟ اور کہاں بیٹھے ہیں ؟ مگر یہ ایک کمال ہے جو صرف انبیاء کی جماعتوں میں ہی پایا جاتا ہے کہ اس بے تکلفی کے نتیجہ میں کسی قسم کی بے ادبی نہیں پیدا ہوتی تھی بلکہ ہر شخص کا دل محبت اور ادب و احترام کے انتہائی جذبات سے معمور رہتا تھا۔خادموں تک سے پوری بے تکلفی کا برتاؤ تھا۔گھر کے کام کاج میں بھی حضرت مسیح موعود کی طبیعت نہایت درجہ سادہ اور تکلفات سے آزاد تھی۔ضرورت کے موقعہ پر نہایت معمولی کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے اور کسی کام میں عار نہیں محسوس کرتے تھے۔مثلاً چار پائی یا بکس وغیرہ اٹھا کر ادھر ادھر رکھ دینا یا بستر بچھانا یا کسی مہمان کے لئے کھانے یا ناشتہ کے برتن لگا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا وغیرہ وغیرہ۔وبائی امراض کے ایام میں بسا اوقات حضرت مسیح موعود خود بھنگن کے سر پر کھڑے ہو کر نالیوں کی صفائی کرواتے تھے اور بعض اوقات نالیوں میں خود اپنے ہاتھ سے پانی بہا کر فینا کل وغیرہ ڈالتے تھے۔غرض حضرت مسیح موعود کی زندگی ہر جہت سے بالکل سادہ اور تکلفات کی آلائش سے بالکل پاک تھی۔بیوی بچوں سے سلوک قرآن شریف نے بار بار اور تاکید کے ساتھ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ شفقت و احسان کا سلوک کریں اور آنحضرت ا حدیث میں فرماتے ہیں خیر کم خیر کم لا هله یعنی اے مسلما نو ا تم میں سے خدا کی نظر میں بہترین اخلاق والا شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے۔اس معیار کے مطابق حضرت مسیح موعود یقیناً ایک خیر الناس وجود تھے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت درجہ پاکیزہ اور حسن و احسان کی خوبیوں سے معمور تھا۔حضرت مسیح موعود ایک بہترین خاوند اور بہترین باپ تھے اور گھر کے اس بہشتی ماحول اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی وجہ سے جماعت احمدیہ کی مستورات اپنے خانگی تنازعات میں حضرت مسیح موعود کو اپنا ایک زبردست سہارا اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک نہایت مضبوط ستون خیال کرتی تھیں کیونکہ انہیں یہ یقین تھا کہ ہماری ہر شکایت نه صرف انصاف بلکه رحمت و احسان کے جذبات کے ساتھ سنی جائینگی ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کے عہد حکومت میں ایک دفعہ ایک معزز احمدی نے کسی خانگی بات میں ناراض ہو کر اپنی بیوی کو سخت ست کہا۔بیوی بھی حساس تھیں وہ خفا ہو کر حضرت مسیح موعود کے گھر میں آگئیں اور حضرت مسیح موعود تک اپنی شکایت پہنچائی۔دوسری طرف وہ صاحب بھی غصہ میں جماعت احمدیہ کے ایک نہایت معزز فرد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے پاس آئے اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود تک اپنے حالات پہنچانے چاہے۔حضرت