تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 617 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 617

تاریخ احمدیت جلد ۵۸۲ حلیہ مبارک خصائل وشمائل اور اخلاق عالیہ اور جلال کے ساتھ یہ بھی فرمایا۔حضرت ابراہیم کا زمانہ تو گزر چکا اب ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں۔ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھ لے خدا کے فضل سے ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہو گی۔چنانچہ اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ایک نظم میں بھی فرماتے ہیں۔ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصان نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اللہ یہ صرف ایک خالی دعوئی نہیں تھا بلکہ جب سے کہ آپ نے خدا سے الہام پا کر مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا اس وقت سے لے کر اپنے یوم وصال تک آپ کی زندگی صبر اور استقلال اور شجاعت کا ایسا شاندار منظر پیش کرتی ہے جو سوائے خدا کے خاص الخاص بندوں کے کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتا یہی وہ منظر تھا جس نے دشمنوں تک کے دل کو موہ لیا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ خواہ مرزا صاحب کے عقائد سے ہمیں کتنا ہی اختلاف ہو مگر اسمیں شبہ نہیں کہ اس نے مخالفتوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔" محنت اور انہماک جس وقت سے کہ آپ نے خدا کے حکم کے ماتحت ماموریت کے میدان میں قدم رکھا اس وقت سے لے کر یوم وفات تک آپ کی زندگی کا ہر لحہ اس IT سپاہی کی طرح گزرا جسے کسی عظیم الشان قومی خطرے کے وقت میں کسی نہایت نازک مقام پر بطور نگران سنتری مقرر کیا گیا ہو اور اس کی چوکسی یا غفلت پر قوم و ملک کی زندگی اور موت کا انحصار ہو۔یہ تشبیہ قطعا کسی مبالغہ کی حامل نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ تشبیہ اس حالت کا صحیح صحیح نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے جو ہر دیکھنے والے کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں نظر آتی ہے۔آپ کی زندگی گویا ایک مقابلہ کی دوڑ تھی جس کا ہر قدم اس احساس کے ماتحت اٹھایا جاتا ہے کہ اس قدم کے اچھا اٹھ جانے پر اس مقابلہ کی ساری کامیابی یا ناکامی کا دارمدار ہے بسا اوقات کام کے انہماک میں حضرت مسیح موعود کھانا اور سونا تک بھول جاتے تھے اور ایسے موقعوں پر آپ کو کھانے کے متعلق بار بار یاد کروا کے احساس پیدا کرنا پڑتا تھا۔کئی مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ تصنیف کے کام میں آپ نے ساری ساری رات خرچ کر دی اور ایک منٹ کے لئے بھی آرام نہیں کیا۔اس قسم کے واقعات شاز کے طور پر نہیں تھے بلکہ کام کے زور کے ایام میں کثرت کے ساتھ پیش آتے رہتے تھے اور دیکھنے والے حیران ہوتے تھے کہ آپ کی خلقت میں کس پاک مٹی کا خمیر ہے کہ فرائض منصبی کی ادائیگی میں اپنے نفس کے ہر آرام کو فراموش کر رکھا ہے۔لیکن چونکہ آپ نے ہر جہت سے لوگوں کے لئے ایک پاک نمونہ بنا تھا اس لئے آپ کا یہ شغف اور یہ انہماک دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں