تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 618 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 618

تاریخ احمدیت جلد ۲ حلیہ مبارک خصائل و شمائل او ر اخلاق عالیه دخل انداز نہیں ہو تا تھا اور سب لوگوں کے حقوق کو ایک مذہبی فریضہ کے طور پر احسن صورت میں ادا فرماتے تھے بلکہ اپنے نفس کی قربانی میں بھی جب آپ یہ دیکھتے تھے کہ یہ قربانی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ بشری لوازمات کے ماتحت خود کام کا نقصان پہنچنے کا احمال ہے تو آپ فورا چوکس ہو کر اپنے نفس کے حقوق کی طرف بھی توجہ فرماتے تھے اور اس طرح آپ نے اپنی زندگی کے ہر فعل کو ایک مقدس عبادت کا رنگ دے لیا تھا۔بہرحال آپ کی زندگی مصروف اور فرائض منصبی کے لحاظ سے ایک بے نظیر نمونہ پیش کرتی تھی اور صحیح اور کامل معنوں میں معمور الاوقات تھے اور آپ کے متعلق خدا کا يه الهام که انتَ الشَّيْعُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه یعنی تو وہ برگزیدہ صحیح ہے جس کا کوئی وقت بھی ضائع جانے والا نہیں۔آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔عبادت الہی جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود کی زندگی ایک مجسم عبادت تھی کیونکہ آپ کا ہر قول و فعل خواہ وہ بظاہر اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے تھایا اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں اور دوستوں اور مہمانوں اور ہمسایوں کے آرام کی خاطر تھا یا کسی اور غرض سے تھا اس میں آپ کی نیت صرف رضائے الہی کی جستجو تھی اور آپ اپنے آقا اور مخدوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک ارشاد کا عملی نمونہ تھے جس میں آنحضرت ا نے یہ فرمایا ہے کہ ہر اچھا کام جو انسان رضائے الہی کے خیال سے کرتا ہے وہ عبادت میں داخل ہے۔حتی کہ اگر کوئی انسان اپنی بیوی کے منہ میں اس نیت کے ساتھ لقمہ ڈالتا ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ بیوی کے آرام کا خیال رکھو تو اس کا یہ فعل بھی ایک عبادت ہے۔اس معنی میں اور اس تشریح کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی ساری زندگی یقینا ایک مجسم عبادت تھی مگر عبادت کے معروف مفہوم کے لحاظ سے بھی آپ کا پایہ نہایت بلند تھا۔جوانی کی زندگی جو نفسانی لذات کے زور کا زمانہ ہوتی ہے وہ آپ نے ایسے رنگ میں گزاری کہ دیکھنے والوں میں آپ کا نام "مستر مشہور ہو گیا تھا جو پنجابی زبان میں ایسے کو کہتے ہیں جو اپنا بیشتر وقت مسجد میں بیٹھ کر عبادت الہی میں گزار دے۔قرآن شریف کے مطالعہ میں آپ کو اس قدر شغف تھا کہ گویادہ آپ کی زندگی کا واحد سہارا ہے جس کے بغیر جینا ممکن نہیں ہے۔شخص اور قرآن شریف کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک جگہ خدا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے پنجگانہ نماز تو خیر فرض ہی ہے جس کے بغیر کوئی شخص جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو مسلمان نہیں رہ سکتا نفل نماز کے موقعوں کی بھی حضرت مسیح موعود کو اس طرح تلاش رہتی تھی جیسے ایک پیاسا انسان پانی کی تلاش کرتا ہے۔تہجد کی نماز جو نصف شب کے بعد اٹھ کر ادا کی جاتی ہے اس کے متعلق حضرت