تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 616
یا ہے غمبران را MAI چاکریم ہمچو خاکے حلیہ مبارک خصائل : شمائل اور اخلاق عالیہ اوفتاده پروری ہر رسولے کو طریق حق نمود جان ما قربان برای حق پروری۔یعنی میں ان تمام رسولوں کا خادم ہوں جو خدا کی طرف آتے رہے ہیں اور میرا نفس ان پاک روحوں کے دروازے پر خاک کی طرح پڑا ہے۔ہر رسول جو خدا کا رستہ دکھانے کے لئے آیا ہے (خواہ وہ کسی زمانہ اور کسی ملک میں آیا ہو ) میری جان اس خادم دین پر قربان ہے۔روحانی مصلحوں کا دستہ پھولوں کی حضرت مسیح موعود کا صبر و استقلال اور شجاعت سیج میں سے نہیں گزر تا بلکہ انہیں فلک بو تر ، پہاڑیوں اور بے آب و گیاہ بیابانوں اور مہیب سمندروں میں سے ہو کر اپنی منزل مقصود تک پہنچنا پڑتا ہے۔بلکہ جتنا کسی رسول کا مشن زیادہ اہم اور زیادہ وسیع ہوتا ہے اتنا ہی اس کے راستے میں ابتلاؤں اور امتخانوں کی بھی زیادہ کثرت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود اپنی ان مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ولات آر ہرزہ گو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم پر کوہ ماراں ہر گذر میں دشت خار مگر آپ کو وہ چیز حاصل تھی جس کے سامنے یہ ساری مشکلات بیچ ہو جاتی ہیں۔فرماتے ہیں:۔عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آب دار اور دل بھی آپ کو خدا نے وہ عطا کیا تھا جو دنیا کی کسی طاقت کے سامنے مرعوب ہونے والا نہیں نظر تھا۔فرماتے ہیں۔سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں، ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک آریہ نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم کے متعلق یہ بات قانون قدرت کے خلاف بیان کی ہے کہ جب دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا تو خدا کے حکم سے آگ ان پر ٹھنڈی ہو گئی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے اس اعتراض کے جواب میں یہ لکھا کہ یہاں آگ سے حقیقی آگ مراد نہیں بلکہ دشمنی اور شرارت کی آگ مراد ہے۔مگر جب حضرت مولوی صاحب کے اس جواب کی اطلاع حضرت مسیح موعود کو پہنچی تو آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ ”مولوی صاحب کو اس تاویل کی ضرورت نہیں تھی۔خدا کے بنائے ہوئے قانون قدرت کا احاطہ کون کر سکتا ہے ؟ حضرت مسیح موعود نے اس موقعہ پر صرف ایک حقیقت اور ایک فلسفہ کا ہی اظہار نہیں فرمایا بلکہ ایک ربانی مصلح اور ذاتی مشاہدہ سے مشرف انسان کی حیثیت میں بڑے وثوق