تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 604
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۶۹ جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجتماع الفضل ۱۲۳ فروری ۱۹۵۵ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۲ حواشی اس درخواست پر بہت سے احباب کے دستخط تھے جن کے نام پدر ۲ / جوان ۱۹۰۸ء صفحہ کالم نمبر پر لکھتے ہیں:۔تاریخ رحمت اللہ صاحب (مالک انگلش ویر ہاؤس لاہور) (صاحبزادہ) مرزا محمود احمد صاحب۔مفتی محمد صادق صاحب عنی اللہ عنہ۔سید محمد احسن صاحب امروہی۔سید محمد حسین اسٹنٹ سرجن لاہور۔(مولوی) محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویو آف ریلیجز خواجہ کمال الدین صاحب (ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب احمد دین صاحب اپیل نویس گوجر انوالہ۔(مولوی) ماسٹر شیر علی صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام (ڈاکٹر عباد الله صاحب امرتسری اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی (نواب) محمد علی خاں صاحب اور میں مالیر کوٹلہ)۔سید احمد نور صاحب کاہلی۔سید حیدرشاہ صاحب قصور۔(صاحبزادہ) مرزا بشیر احمد صاحب۔(حضرت میرا با عصر نواب صاحب۔اس سلسلہ میں آپ نے حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی اور مولوی محمد علی صاحب کا ان کی شاندار دینی خدمات کے باعث خاص طور پر ذکر فرمایا بعد ازاں حضرت سید حامد شاہ صاحب اور حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب کا نام لیا۔بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ - ۸ کالم نمیه ۳ ۵- اصحاب جلد دوم صفحه ۵۸۹ 6 یہ پہلی بیعت باغ کے کسی حصہ میں ہوئی؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور بعض دیگر جلیل القدر صحابہ مثلاً حضرت مولوی محمد دین صاحب صدر صدر انجمن احمد یہ ربوہ حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب کی رائے میں پہلی بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ میں ہوئی تھی جو خلوط باغ کے جنوبی حصہ میں مقبرہ بہشتی کے ساتھ متصل ہے۔خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اید و اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا غالب خیال بھی یہی ہے اس کے بر عکس بالخصوص حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب تاریانی جیسے ممتاز صحابہ حتمی طور پر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے باغ کو بیعت اولی کا مقام قرار دیتے تھے۔ایک صحابی جناب محمد اسمعیل صاحب معتبر کا بیان ہے کہ بیعت اوٹی دونوں مقامات پر ہوتی ہے پہلے حضرت مسیح موعود کے باغ میں پھر حضرت صاحبزادہ مرزا سلط ابن احمد صاحب کے باغ میں (الفضل ۲۳۰۴/ فروری ۱۹۵۵ء) ضمیر الحکم ۱۲۸ مئی ۱۹۰۸ ء و بدر ۲ / جنون ۱۹۰۸ ء صفحه نمبرا الفضل ۲۳ / فروری ۱۹۵۵ء صفحہ نمبر ۲ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۸۸ اصحاب احمد جلاد نیم ۱۰۲ ۱۰۳ الحکم ۲۸/ مئی ۱۹۰۸ء اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۱۵۸۹ اصحاب احمد جلد نہم صفحہ ۷۷ ۲ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب میر عمارت صدرا انجمن احمد یہ اس وقت تدفین کے انغرام و انتظام پر متعین تھے۔آپ کی خواہش تھی کہ تختوں کے اوپر کی ڈاٹ پختہ اینٹوں کی بنائی جائے تا قبر کے بیٹھ جانے کا اندیشہ نہ ہو مگر چونکہ حضرت مولانا نور الدین خلیفتہ الصحیح الاول نے اس کی جازت نہ دی اس لئے دنمور کا جسد اطہر بغیر تابوت صندوق یا بکس کے صرف کفن میں لپیٹا: واقبر میں اتار گیا جس کے فرش پر کچھ ریت بچھادی گئی تھی۔قبر کے گڑھے کے اندراینٹ کی دیواروں پر لاہور آئے ہوئے بکس کے تختے ڈال کر چھت دیا گیا اور ان کے اوپر سے کچھی اینٹوں کی ڈاٹ لگادی گئی پھر اس کے اوپر مٹی ڈال دی گئی ہدایت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی - مرقومه الفضل ۱۸۲ وقار جولائی ۱۹۴۴/۱۳۲۱ء مش صفحه ۴) الفضل ۱۳/ ستمبر ۱۹۳۶ء صفحہ سے کالم نمبر ۳ الفضل ۲۶ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۴ کانم نمبر ۳ یاران کهن صفحه ۴۲ از مولانا عبد المجید سالک ( طبع اول) بعض حضرات نے یہ شذرہ مولانا عبد اللہ العمادی کا بتایا ہے جو صحیح نہیں