تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 598 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 598

ریت - جلد ۴ ۵۶۳ جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع اگرچہ مرزا صاحب نے علوم مروجہ اور دینیات کی باقاعدہ تعلیم نہیں پائی تھی مگر ان کی زندگی اور زندگی کے کارناموں سے کے مطالعہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاص فطرت لے کر پیدا ہوئے تھے جو ہر کس رنا کس کو نصیب نہیں ہو سکتی۔انہوں نے اپنے مطالعہ اور فطرت سلیم کی رو سے مذہبی لٹریچر پر کافی عبور حاصل کیا۔۱۸۷۷ء کے قریب جبکہ ان کی ۳۶/۳۵ سال کی عمر تھی ہم ان کو ایک غیر معمولی مذہبی جوش میں سرشار پاتے ہیں۔وہ ایک بچے اور پاکباز مسلمان کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔اس کا دل دیوی کششوں سے غیر متاثر ہے۔وہ خلوت میں انجمن اور انجمن میں خلوت کا لطف اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ہم اسے بے چین پاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہے جس کا پتہ فانی دنیا میں نہیں۔اسلام اپنے گہرے رنگ کے ساتھ اس پر چھایا ہوا ہے۔کبھی وہ آریوں سے مباے کرتا ہے۔کبھی حمایت و حقیقت اسلام میں وہ کتابیں لکھتا ہے۔۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور آریوں سے جو مباحثات انہوں نے کئے تھے ان کا لطف اب تک دلوں سے محو نہیں ہوا۔غیر مذاہب کی تردید اور اسلام کی حمایت میں جو نادر کتا ہیں انہوں نے تصنیف کی تھیں ان کے مطالعہ سے جو وجد پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اترا۔ان کی ایک کتاب براہین احمدیہ غیر مسلموں کو مرعوب کر دیا۔اور اسلامیوں کے دل بڑھا دیئے اور مذہب کی پیاری تصویر کو ان آلائشوں اور گردو غبار سے صاف کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا جو مجاہیل کی تو ہم پرستیوں اور فطری کمزوریوں نے چڑہا دیئے تھے۔غرضکہ اس تصنیف نے کم از کم ہندوستان کی مذہبی دنیا میں ایک گونج پیدا کر دی تھی جس کی صدائے بازگشت ہمارے کانوں میں اب تک آ رہی ہے۔گو بعض بزرگان اسلام اب براہین احمدیہ کے برا ہونے کا فیصلہ دیدیں محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بہت کی پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ ما تقدم اپنے آئندہ دعاوی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا۔لیکن اس کے بہترین فیصلہ کا وقت ۱۸۸۰ء تھا جب کہ وہ کتاب شائع ہوئی۔مگر اس وقت مسلمان بالاتفاق مرزا صاحب کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے۔یہ دوسری بات ہے کہ اس کے بعد مرزا صاحب نے اپنے تئیں اس کا مستحق نہ دکھایا۔کیریکٹر کے لحاظ سے ہمیں مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا ایک چھوٹا سا دھبہ بھی نظر نہیں آتا وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی غرض کہ مرزا صاحب کی زندگی کے ابتدائی پچاس سالوں نے کیا بلحاظ اخلاق و عادات اور پسندیدہ اطوار کیا بلحاظ مذہبی خدمات و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا۔"