تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 597 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 597

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۶۲ جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع کسی قابلیت یا کسی مشرب وملت کا ہو ان کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گرے فکر میں پڑ جاتا تھا۔ہندوستان آج مذاہب کا عجائب خانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس کی نظیر غالبا دنیا میں کسی جگہ سے نہیں مل سکتی۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کے لئے حکم و عدل ہوں۔لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا۔آئندہ امید نہیں ہے کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں محض اس طرح مذاہب کے مطالعہ میں صرف کر دے۔" (دوسرا تبصرہ) اخبار وکیل امرتسر مورخہ ۳۰/ مئی ۱۹۰۸ء ص ۱) مرزا غلام احمد مرحوم ۲۲ مئی ۱۹۰۸ ء کی صبح ہندستان کی جدید مذہبی تاریخ میں دیر تک اہمیت سے دیکھی جائے گی۔جب کہ دس بجے کے قریب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے بعارضہ ہیضہ یا بقول بعارضہ درد گردہ انتقال کیا۔مرحوم آجکل اپنی اہلیہ کے علاج اور تبدیل آب و ہوا کی غرض سے لاہور میں مقیم تھے۔مگر وہ خدائی حکم جو ایک ادنی فرد اور زیر دست تاجدار پر اور ایک فقیر اور اولو اعزم نبی پر یکساں عمل کرتا ہے آپہنچا اور اس سے ایک ایسے شخص کے وجود پر بد نیتی کا پردہ ڈال دیا جس نے اپنے عبرتناک دعاوی سے مذہبی دنیا میں تلاطم برپا کر دیا۔مرزا صاحب کی لائف (سوانح عمری میں ابتدائی دنوں کے سوا آپ کو ایسے تھوڑے ہی صفحے میں گے جو حیرت انگیز واقعات سے معنون اور تعجب خیز کیفیتوں سے مزین نہ ہوں۔خواہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں دشمنان اسلام کے ساتھ نبرد آزمائی کر رہے ہوں خواہ قادیان میں بیٹھے ہوئے پیروان رسول پر مخالفت کی آگ برسا رہے ہوں۔خواہ یورپ میں مادہ پرست عیسائیوں کو مذہب اسلام کی برکتوں سے آگاہ کر رہے ہوں۔