تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 576 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 576

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۴۱ سید نا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جنا ز و و تدفین علاج کی کوشش چنانچہ حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب حاضر ہو گئے۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بلوا لیا گیا۔حضور نے فرمایا کہ مجھے سخت دورہ اسمال کا ہو گیا ہے آپ کوئی دوا تجویز کریں۔پھر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ ”حقیقت میں تو دوا آسمان پر ہے آپ دوا بھی کریں اور دعا بھی۔" علاج شروع ہوا مگر کمزوری لحظه به لحظہ بڑھتی گئی۔زبان اور گلے میں خشکی بھی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے بولنے میں تکلیف محسوس ہوتی تھی مگر جو کلمہ اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا وہ ان لفظوں میں محدود تھا اللہ میرے پیارے اللہ " اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا " حضور کے سب خدام اس وقت مضطرب الحال تھے کچھ دوا د غیرہ میں مصروف تھے اور اکثر نماز تسجد پڑھ رہے تھے۔صبح کے وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اقدس کے چرہ مبارک پر نظر ڈالی تو ان کا دل بیٹھ گیا کیونکہ آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ مرض الموت ہے۔اس وقت حضور بہت کمزور ہو چکے تھے۔ڈاکٹر نے نبض دیکھی تو ندارد۔سب سمجھے کہ وفات پاگئے۔یکدم سب پر ایک سناٹا سا چھا گیا مگر تھوڑی دیر بعد نبض میں پھر حرکت پیدا ہوئی مگر حالت بدستور نازک ہوتی گئی۔کوئی پانچ بجے کے قریب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب بھی آپہنچے۔اس وقت حضور کا بدن گرم تھا اور گبھراہٹ تھی مگر جو اس پوری طرح قائم تھے۔آہستہ آہستہ بولتے تھے۔نواب صاحب کے پہنچنے پر حضور نے دو ایک دفعہ کروٹ بدلی۔آنکھ مبارک کھولی اور ان کی طرف دیکھا۔نواب صاحب نے السلام علیکم عرض کیا جس کے جواب میں حضور نے و علیکم السلام فرمایا۔اتنے میں صبح ہو گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چارپائی کو باہر صحن سے اٹھا کر اندر کمرے میں لے آئے۔جب ذرا روشنی ہو گئی تو حضور نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہو گیا ہے اس پر حضور نے بشر پر ہی ہاتھ مار کر تم کیا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی۔اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہو گئی اور نماز پوری نہ کر سکے۔تھوڑی دیر بعد حضور نے پھر دریافت فرمایا کہ صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ عرض کیا گیا حضور ہو گیا ہے۔آپ نے پھر نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔اس کے بعد نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری رہی مگر جب کبھی ہوش آتا تھا وہی الفاظ اللہ میرے پیارے اللہ سنائی دیتے تھے اور ضعف لحظہ بلخظ بڑھتا جاتا تھا۔غالباً آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے (اور ایک روایت کے مطابق ساڑھے سات بجے) ڈاکٹر نے پوچھا کہ حضور کو خاص طور پر کیا تکلیف محسوس ہوتی ہے مگر حضور زبان سے جواب نہ دے سکتے تھے اس لئے کاغذ قلم دوات منگوائی گئی اور حضور نے بائیں ہاتھ پر سہارا