تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 575 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 575

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۴۰ سید نا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جنازه و تدفین مضمون لکھنے میں مصروف رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سرعت اور توجہ کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا۔بالا خر ۲۵ / مئی کی شام کو آپ نے اس مضمون کو قریباً مکمل کر کے کاتب کے سپرد کر دیا۔حضور عصر کی نماز سے فارغ ہو کر حسب طریق سیر کے خیال سے باہر تشریف لائے۔آخری سیر ایک کرایہ کی گھوڑا گاڑی حاضر تھی جو فی گھنٹہ مقررہ شرح کرایہ پر منگائی گئی تھی۔آپ نے اپنے نہایت مخلص رفیق شیخ (بھائی) عبد الرحمن صاحب قادیانی سے فرمایا کہ اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ کے کرایہ کے پیسے ہیں وہ ہمیں صرف اتنی دور لے جائے کہ ہم اس وقت کے اندر اندر ہوا خوری کر کے گھر واپس پہنچ جائیں۔چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور آپ تفریح کے طور پر چند میل پھر کر واپس تشریف لے آئے۔اس وقت آپ کو کوئی خاص بیماری نہیں تھی صرف مسلسل مضمون لکھنے کی وجہ سے کسی قدر ضعف تھا اور غالباً آنے والے حادثہ کے مخفی اثر کے ماتحت ایک گونہ ربودگی اور انقطاع کی کیفیت طاری تھی۔مرض الموت کا آغاز حضرت اقدس میر سے واپس بخیرت سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان تک پہنچے۔حضور نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں۔۔۔پھر تھوڑا سا کھانا تناول فرمایا اور آرام کے لئے لیٹ گئے۔حضور کو اسمال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو یہ عارضہ ہو جاتا تھا جس سے نبض ساقط ہو جاتی تھی اور عموماً مشک کے استعمال سے واپس آجاتی تھی۔لاہور اگر بھی دو تین دفعہ اس بیماری کا حملہ ہوامگر پھر طبیعت بحال ہو گئی لیکن اس روز (۲۵/ مئی کی شام کو حضور نے کھانے کے چند نوالے ہی کھائے تھے کہ اسہال کی حاجت ہوئی۔اس کے بعد تھوڑی دیر تک حضور کو دبایا جاتا رہا اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور حضرت ام المومنین بھی سوگئیں۔لیکن تھوڑی دیر بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی۔کوئی گیارہ بارہ بجے کے قریب طبیعت بے حد کمزور ہو گئی۔حضور نے حضرت ام المومنین کو جگایا آپ اٹھیں اور حضور کے پاؤں مبارک کو دبانا شروع کیا۔کچھ وقت کے بعد حضور کی حالت ضعف سے بہت نازک ہو گئی جس پر حضرت ام المومنین نے پوچھا کیا مولوی صاحب حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بلالیں؟ حضور نے فرمایا۔بلالو۔نیز فرمایا۔محمود کو جگالو - D