تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 577 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 577

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۴۲ سید نا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جنازه و تدفین لے کر بستر سے کچھ اٹھ کر لکھنا چاہا مگر مشکل چند الفاظ لکھ سکے اور پھر بوجہ ضعف کے کاغذ کے اوپر قلم گھٹتا ہوا چلا گیا اور حضور پھر لیٹ گئے۔کاغذ پر جو غالباً حنائی رنگ کا تھا حضور نے یہ لکھا تھا کہ " تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی کوئی دوا دی جائے۔" یہ الفاظ سید مهدی حسین صاحب (جو اس وقت پلنگ کے سرہانے کھڑے تھے) کاغذ پر تحریر دیکھے بغیر قلم کی روانی اور حرکت کی وجہ سے ساتھ کے ساتھ پڑھتے گئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال نو بجے کے بعد حضور کی حالت زیادہ تشویشناک ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد نزع کی حالت طاری ہو گئی۔غرغرہ میں کوئی آواز وغیرہ نہیں تھی بلکہ صرف سانس لمبا لمبا اور کھی کھینچ کر آتا تھا۔حضرت ام المومنین اس وقت دعا میں مصروف تھیں۔کبھی سجدہ میں گر جاتیں اور بار بار یہی کہتی تھیں کہ اے حی و قیوم خدا۔اے میرے پیارے خدا اے قادر مطلق خدا۔اے مردوں کے زندہ کرنے والے خدا تو ہماری مدد کر۔اے واحد لا شریک خدا۔اے خدا میرے گناہوں کو بخش میں گنہگار ہوں۔اے میرے خدا میری زندگی بھی تو ان کو دیدے میری زندگی کس کام کی ہے یہ تو دین کی خدمت کرتے ہیں۔میری زندگی بھی ان کو دیدے۔بار بار یہی الفاظ آپ کی زبان پر تھے۔اور اخیر میں جبکہ نزع کا آخری وقت بالکل قریب تھا آپ نے فرمایا۔اے میرے پیارے خدا یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑیو۔اور کئی بار یہ کہا۔تھوڑی دیر غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اور ہر آن سانس کے درمیان کا وقفہ لمبا ہو تا گیا حتی کہ قریباً ساڑھے دس بجے دو ایک دفعہ لمبے سانس آئے۔روح قفس عصری ہی سے پرواز کر گئی اور خدا کا برگزیدہ قرآن کا فدائی اسلام کا شیدائی، محمد ملنے کا عاشق اور دین محمدی" کا فتح نصیب جرنیل جس نے اپنی پوری عمر علمی و قلمی جہاد کی قیادت میں بسر کی تھی ، اپنے اہل بیت اور اپنے عشاق کو سوگوار اور افسردہ چھوڑ کر اپنے آسمانی آقا کے دربار میں حاضر ہو گیا۔إنا لله وانا اليه راجعون وفات کے وقت حضور کی عمر سوا تہتر سال کے قریب تھی۔دن منگل کا تھا اور سنسی تاریخ ۲۶/ مئی ۱۹۰۸ء تھی جو (ڈاکٹر محمد شہید اللہ صاحب پروفیسر راجشاہی یونیورسٹی مشرقی پاکستان کی) جدید تحقیق کے مطابق آنحضرت ا کا یوم وصال بھی ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا چشمدید بیان ہے۔