تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 566
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۳۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لا ہو ر ا اخفاء نہیں کر سکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطا کیا گیا ہے۔اور خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے۔اس کا نام نبوت ہے۔مگر حقیقی نبوت نہیں۔یہ تو نزاع لفظی ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے۔دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا یہ قول کہ قولوا انه خاتم النبين ولا تقولو الانبي بعدہ اس امر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہو چکی ہے تو یقین جانو کہ اسلام بھی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔" اخبار عام کی غلط رپورٹ اور حضور کی تردید اخبار عام ۲۳ / مئی ۱۹۰۸ ء نے حضور کے پبلک لیکچر کی خبر دیتے ہوئے یہ غلط رپورٹ شائع کی کہ گویا حضور نے جلسہ میں اپنی نبوت سے انکار کیا ہے جس پر حضور نے اسی دن ایڈیٹر صاحب اخبار عام کو ایک مفصل تردیدی خط لکھا کہ۔اس جلسہ میں میں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا۔اور اپنا علیحدہ کلمہ علیحدہ قبلہ بنا تا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر کتاب میں ہمیشہ میں یہ لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعوئی نہیں اور یہ سرا سر میرے پر تمت ہے۔اور جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں۔وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا ہے۔اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ