تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 567 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 567

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۵۳۲ حضرت مسیح موعود علیہ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں۔میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کی مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے۔۔۔میں خود ستائی سے نہیں بلکہ خدا کے فضل اور اس کے وعدہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا ایک طرف ہو اور ایک طرف صرف میں کھڑا کیا جاؤں اور کوئی امرایسے پیش کیا جائے جس سے خدا کے بندے آزمائے جاتے ہیں تو مجھے اس مقابلہ میں خدا اغلبہ دے گا۔اور ہر ایک پہلو کے مقابلہ میں خدا میرے ساتھ ہو گا اور ہر ایک میدان میں وہ مجھے فتح دے گا۔بس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے۔" آخری تقریر ۳۵ اہلحدیث عالم مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے حضور کی خدمت میں رقعہ بھجوایا کہ وہ مسائل متنازعہ فیہ میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔حضرت اقدس "پیغام صلح" لکھنے میں مصروف تھے اس لئے حضور نے ۲۵ / مئی ۱۹۰۸ء کو مولوی محمد احسن صاحب کو تبادلہ خیالات کرنے کا ارشاد فرمایا۔رقعہ ملنے کے وقت چونکہ حضور اپنے خدام میں تشریف فرما تھے اس لئے حضور نے اسی وقت حیات مسیح کے رد میں ایک مفصل تقریر بھی کی جس کے آخر میں فرمایا۔عیسی کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ایسا ہی عیسی موسوی کی بجائے عیسی محمدی آنے دو کہ اس میں اسلام کی عظمت ہے۔" یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری تقریر تھی جو آپ نے بڑے زور اور خاص جوش سے فرمائی۔دوران تقریر حضور کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہو جاتا تھا کہ نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر میں ایک خاص اثر اور جذب تھا۔رعب ہیبت اور جلال اپنے کمال عروج پر تھا۔بعض خاص خاص تحریکات اور موقعوں پر ہی یہ شان دیکھنے میں آئی ہوگی جس کا ظهور اس دن ہو رہا تھا۔اس تقریر کے بعد حضور نے کوئی تقریر نہیں فرمائی۔حضرت میاں جہاں خان صاحب آف مانگٹ اونچا تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ آخری صحابی آخری صحابی ہیں جنہیں دستی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔آپ کی تحریری بیعت اخبار بد ر ۲۵- اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ا ا پر شائع ہوئی۔انہوں نے ایک بار خود بیان فرمایا کہ " حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب لاہور تشریف لائے تو انہوں نے حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر دستی بیعت کی تھی " (مکتوب حضرت سید نا خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالی بنام مولف کتاب مورخہ ۱۷