تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 556 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 556

۵۲۱ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ میں آرہا ہے۔(وفات 8 ستمبر ۱۹۸۵ء) - ولادت قریبا ۱۸۷۵ ء وفات ۱۰ جنوری ۱۹۵۵ء پہلی مرتبہ ۱۵/ تمبر۷ ۱۹۰ء کو قادیان گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہو کر ۲ ستمبر ۱۹۰۷ء کو اپنے اصلی وطن جدہ کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرت اقدس نے ان کو محکم معظمہ اور جدہ کے علماء میں تقسیم کرنے کے لئے "استتاء " اور " تفسیر سورہ فاتحہ " کے دس دس نسخے عطا فرمائے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی حرم خاص حضرت سیدہ عزیزہ بیگم (ام وسیم احمد) آپ ہی کی صاحبزادی ہیں الله ولادت ۱۸۸۷ء مرحوم شیخ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف محمد بخش صاحب تھائید ارٹالہ کے بیٹے تھے۔شیخ صاحب کی اہلیہ صاحبہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام الومنین رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ ایک دن حضرت مسیح موعود ہتے ہوئے اندر تشریف لائے اور ایک کپڑا مجھے دے کر فرمایا کہ معلوم ہے یہ کپڑا تمہیں کس نے دیا ہے؟ پھر فرمایا۔یہ اس کے بیٹے نے دیا ہے جس نے تمہارے ٹرنک لیکھرام کی تلاشی کے وقت توڑے تھے۔بہر حال حضور انور کو اس خیال سے کس قدر روحانی سردر حاصل ہوا ہو گا کہ اللہ تعالٰی کس طرح مخالفین کی اولاد کو پکڑ پکڑ کر حضور کے قدموں میں گرا رہا ہے۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ ۲۰۰ طبع اول) شیخ صاحب پولیس کی ملازمت سے ریٹائرڈ ہو کیا ۱۹۴ء میں مستقل طور پر قادیان آگئے تھے اور کچھ عرصہ تک آپ نے افسر حفاظت کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔۲۴ / جولائی ۱۹۵۳ء کو ربوہ میں فوت ہوئے اله رسالہ کا نام " الہام " ہے جو خلافت لائبریری ربوہ کے ہندو لٹریچر میں موجود ہے ۱۳ چشمه معرفت " ( طبع اول صفحه ۳۲۴-۳۲۵ ایک سکھ دروان لکھتے ہیں:۔گورو ہر سائے میں ایک قرآن شریف پڑا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ وہ قرآن شریف ہے جس کو گورو نانک صاحب سکے اور مدینے کے سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔" ( خالصہ کا چار ۱۸ اکتوبر ۱۹۳۷ء بحوالہ سکھ مسلم اتحاد کا گلد اردو مولفه صاحبزادہ مرزا د سیم احمد صاحب ناظردعوت و تبلیغ (تاریان) -۵ ان کے مختصر حالات کے لئے ملاحظہ ہو " تذکر و روسائے پنجاب (اردو) جلد اول صفحہ ۳۴۸-۳۵۱ فیروز پور گزٹ مطبوع ۱۸۸۶ء - ۱۷ چشمه معرفت " ( طبع اول) صفحه ۳۳۷۳۳۶ ۱۸ در چشمه معرفت صفحه ۳۳۶-۳۳۷ (ترجمہ) پر اچین بیٹر ان صفحہ ۱۸ ۲۰ چشمه معرفت صفحه ۳۳۸-۳۳۹ ۱ بدر ۲۷ فروری ۱۹۰۸ء صفحه ۲ ۲۲ سیرت المهدی حصہ دوم صفحه ۵۳ الفضل ۲۵/۲۴ نومبر ۱۹۶۰ء ( خطبہ نکار ۲۴ ۲۵ اصحاب احمد " جلد دوم صفحه ۲۵۳ ايضا صفحه ۳۰۲ ۲۷ نومبر ۱۸۸۳ء کو پیدا ہوئے۔نومبر ۱۹۰۴ ء میں بمقام لاہور حضور علیہ السلام کی پہلی مرتبہ زیارت کی۔۲۸/ جنوری ۱۹۰۹ء سے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور مدرسہ احمدیہ میں مدرس مقرر ہوئے۔۱۹۳۹ء میں جامعہ احمدیہ میں سالہا سال تک پروفیسر رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔سلسلہ احمدیہ کے اعلیٰ پایہ کے عالم بہت بڑے محقق علوم شرقیہ کے ماہر نہایت منکسر المزاج بے نفس اور بالغ نظر بزرگ تھے۔سلسلہ کے بہت سے مبلغین بلکہ متعدد افراد خاندن مسیح موعود کو آپ کی شاگردی کا فخر حاصل ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ اللہ تعالی نے تقویم ہجری رسمی کے لئے جو کمیٹی مقرر کی تھی اس میں سب سے اہم کام کرنے والے رکن اپ تھے۔اسی طرح کشوف و الہامات مسیح موعود کی ترتیب و تدوین میں آپ نے نمایاں حصہ لیا بلکہ اس اہم خدمت کے اصل انچارج اور زمہ دار آپ ہی تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے ساتھ بہت سے سفروں میں ہمرکاب رہے کیونکہ آپ کو علوم عربی کے علاوہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں اور سلسلہ کے خصوصی مسائل پر غیر معمولی عبور