تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 43
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ مولوی محمد حسین صاحب بثانوی کی شورش اور ناکامی اس میں برس کے عرصہ میں جو براہین احمدیہ کی تالیف سے شروع ہوا ہے کم از کم دو تین سو پیشگوئی موت وغیرہ کی میری طرف سے شائع ہوتی حالانکہ اس مدت دراز میں بجز ان دو تین پیشگوئیوں کے ایسی پیشگوئی اور کوئی نہیں کی گئی۔میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ پیشگوئیاں لیکھرام اور عبد اللہ آتھم کے بارے میں میں نے اپنی پیش دستی سے نہیں کیں بلکہ ان دونوں صاحبوں کے سخت اصرار کے بعد ان کی دستخطی تحریریں لینے کے بعد کی گئیں اور لیکھرام نے میری اشاعت سے پہلے خود ان پیشگوئیوں کو شائع کیا تھا اور میں نے بعد میں شائع کیا۔چنانچہ لیکھرام کو اپنی کتاب تکذیب صفحہ ۳۳۲ میں اس بات کا اقرار ہے کہ وہ پیشگوئیوں کے لئے دو ماہ تک قادیان میں ٹھہرا رہا اور اس نے خود پیشگوئی کے لئے اجازت دی اور اپنی دستخطی تحریر دی۔وہ اس صفحہ میں میری نسبت یہ بھی لکھتا ہے کہ " وہ موت کی پیشگوئی کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے جب تک اجازت نہ ہو۔" اور پھر اسی صفحہ میں اپنی طرف سے اجازت کا اعلان کرتا ہے۔۔۔اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی ایک تحریر مسل مقدمہ ڈاکٹر کلارک کے ساتھ شامل ہے۔" ایک برس سے کچھ زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ میں نے اس عہد کو چھاپ کر شائع کر دیا ہے کہ میں کسی کی موت و ضرر وغیرہ کی نسبت ہر گز کوئی پیشگوئی شائع نہ کروں گا۔پس اگر یہ پیشگوئی جو اشتہار مباہلہ ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ میں ہے کسی کی موت یا اس قسم کی ذلت کے متعلق ہوتی تو میں ہر گز اس کو شائع نہ کر تا لیکن اس پیشگوئی کو کسی کی ایسی ذلت سے جو قانونی حد کے اندر آ سکتی ہے کچھ تعلق نہ تھا۔" حضور نے اپنے بیان میں انگریزی عدالت کو اپنا آسمانی پیغام دیتے ہوئے یہ بھی لکھا:۔امن اور سلامتی کے نشان اور امن اور سلامتی کی پیشگوئیاں جن کو آسودگی عامہ خلائق میں کچھ دست اندازی نہیں ہمیشہ ایک بارش کی طرح نازل ہو رہے ہیں لیکن خدا کی قدیم سنت کے موافق ضرور تھا کہ میں بھی اسی طرح عوام کی زبان سے دکھ دیا جاتا جیسا کہ پہلے پاک نبی رکھ دیئے گئے۔خاص کرده اسرائیلی نبی ، سلامتی کا شہزادہ جس کے پاک قدموں سے شعیر کے پہاڑ کو برکت پہنچی اور جو قوم کی نا انصافی اور نا بینائی سے مجرموں کی طرح پیلاطوس اور ہیرو داس کے سامنے عدالت میں کھڑا کیا گیا تھا سو مجھے اس بات سے فخر ہے کہ اس پاک نبی کی مشابہت کی وجہ سے میں بھی عدالتوں کی طرف کھینچا گیا۔۔۔کاش اس گور نمنٹ محسنہ کو نشان دیکھنے کے ساتھ کچھ دلچپسی ہوتی اور کاش مجھ سے گورنمنٹ کی طرف سے یہ مطالبہ ہو تا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی آسمانی نشان یا کوئی ایسی پیشگوئی جو امن اور سلامتی کے اندر محدود ہو ر کھلاؤ۔تو جو میرے پر انترا کیا گیا ہے کہ گویا میں ڈاکوؤں کا کام کر رہا ہوں یہ سب حقیقت کھل جاتی۔آسمان پر ایک خدا ہے جس کی قدرتوں سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔"