تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 42
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۲ مولوی محمد حسین صاحب نانوی کی شورش اور ناکامی حضرت اقدس کا تحریری بیان حضرت اقدس نے دفاع کی غرض سے ایک مفصل تحریری بیان لکھا جس کو انگریزی میں طبع کر کے داخل عدالت کیا گیا۔آپ نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، آتھم اور لیکھرام کی پیشگوئیوں کے واقعات بڑی تفصیل اور وضاحت سے بیان کئے جس سے آپ کا بری ہونا صاف کھل جاتا تھا۔خصوصا" مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اس بیان کی تردید کی کہ آپ کی ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں کوئی ایسی پیشگوئی ہے جس سے ان کو یا ان کے کسی ہم خیال کی جان مال یا عزت کو خطرہ میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہے۔آپ نے بتایا کہ الہام " جَزَاء سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَزَهَقَهُمْ ذِلَةٌ " جس پر مقدمہ کا تمام تر مدار ہے قطعا" قانونی زد میں نہیں آسکتا کیونکہ ہر مظلوم کا حق ہے کہ وہ ظالم کو یہ بد دعادے کہ جیسا تو نے میرے ساتھ کیا خدا تیرے ساتھ بھی ویسا کرے۔اس صورت میں یہ بات تنقیح طلب ہوئی کہ فریق مظلوم کو کس قسم کی ذلت پہنچی ہے۔اور فریق مخالف اس بات کو ہرگز قبول نہیں کرے گا کہ اس نے کبھی مجھ کو ایسی ذلت پہنچائی ہے جو فوجداری قوانین کے نیچے آسکتی۔پس اس میں مثل ذلت مراد ہے جو اپنے اصل معنے کی رو سے پوری شان سے پوری ہو چکی ہے کیونکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مجھ پر جیسا فتوی کفر لگایا تھا ویسا فتویٰ ان کے ہم خیال علماء انگریزی رسالہ کی اشاعت پر ان پر بھی لگا چکے ہیں۔پیشگوئی میں ذلت کے لفظ کے ساتھ مثل کی شرط تھی سو اس شرط کے موافق الہام پورا ہو گیا اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی۔اگر چہ اتناہی جواب کافی دوائی تھا مگر حضور نے فریق مخالف اور استغاثہ کے عائد کردہ الزام کے جواب میں ہر پہلو سے مسکت دلائل دیتے ہوئے لکھا:۔عدالت میں میری نسبت یہ الزام پیش کیا گیا ہے کہ گویا میری قدیم سے عادت ہے کہ خود بخود کسی کی موت یا ذلت کی پیشگوئی کیا کرتا ہوں اور پھر اپنی جماعت کے ذریعہ سے پوشیدہ طور پر اس کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ کسی طرح وہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔گویا میں ایک قسم کا ڈا کو یا خونی یا رہزن ہوں اور گویا میری جماعت بھی اس قسم کے اوباش اور خطر ناک لوگ ہیں جن کا پیشہ اس قسم کے جرائم ہیں۔لیکن میں عدالت پر ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء سے خمیر کیا گیا ہے اور نہایت بری طرح میری اور میری معزز جماعت کی ازالہ حیثیت عرفی کی گئی ہے۔میں اس وقت اس کو زیادہ بیان کرنا غیر محل سمجھتا ہوں لیکن عدالت پر واضح کرتا ہوں کہ میں ایک شریف اور معزز خاندان میں سے ہوں۔میرے باپ دادے ڈاکو اور خونریز نہ تھے اور نہ کبھی کسی عدالت میں میرے پر کوئی جرم ثابت ہوا۔اگر ایسے بد اور ناپاک ارادہ سے جو میری نسبت۔۔۔۔بیان کیا گیا ہے۔ایسی پیشگوئیاں کرنا میرا پیشہ ہو تا تو