تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 544 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 544

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۰۹ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ ۲۶ / دسمبر کا دن حضرت مسیح موعود علیہ ۲۶ / دسمبر کی صبح کو حضرت اقدس باہر میر کے السلام کی سیر کا ایمان افروز نظارہ واسطے تشریف لے گئے۔خدام جوق در جوق ساتھ ہوئے اور پروانوں کی طرح زیارت کے واسطے آگے بڑھتے تھے۔اس قدر ہجوم تھا کہ سیر پر جانا مشکل ہو گیا۔حضرت اقدس گاؤں کے باہر ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور اپنے خدام کو قریب دو گھنٹے مصافحہ کا شرف بخشا۔اس وقت کا نظارہ قابل دید تھا۔ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ سب سے پہلے میں آگے بڑھوں اور زیارت کروں۔ایک دیہاتی دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ اس بھیڑ میں سے زور کے ساتھ اندر جا اور زیارت کر۔اور ایسے موقعہ پر بدن کی بوٹیاں بھی اڑ جائیں تو پروانہ کر۔مفتی محمد صادق صاحب نے یہ دیکھ کر کہا لوگ بیچارے بچے ہیں کیا کریں۔تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی کا چہرہ دنیا میں نظر آیا ہے۔پروانے نہ بنیں تو کیا کریں۔ظہر و عصر کی کارروائی ظہر اور عصر ہر دو نمازیں مسجد اقصیٰ میں جمع کر کے پڑھی گئیں۔نماز کے بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب نے بعض نکاح پڑھے اور خطبہ میں نکاح کے مقصد پر ایک لطیف تقریر فرمائی۔نکاح کے بعد میر قاسم علی صاحب نے ایک منظوم مبارک نامہ پڑھا۔۲۷/ دسمبر کا دن۔حضرت اقدس کی پہلی تقریر ۱۲۷ مبر کو مجھ اتنی میں جمہ پڑھا گیا جمعہ کے موقت مسجد اقصیٰ کے اندر اور باہر کا صحن پوری طرح بھر گیا اور خدام نے ارد گرد کی دوکانوں گھروں اور ڈا کھانہ کی چھتوں پر نماز جمعہ ادا کی۔کل حاضری تین ہزار کے قریب ہو گی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ پڑھا۔نماز جمعہ کے ساتھ ہی نماز عصر بھی جمع کی گئی۔اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے خدام سے نہایت روح پرور خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے سورہ فاتحہ کی لطیف تفسیر بیان فرمانے کے بعد جماعت کو تزکیہ نفس کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا۔تزکیہ نفس اسے کہتے ہیں کہ خالق و مخلوق دونوں طرف کے حقوق کی رعائت کرنے والا ہوں۔خدا تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ جیسا زبان سے اسے وحدہ لا شریک مانا جائے ایسا ہی عملی طور سے اسے مانیں اور مخلوق کے ساتھ برابر نہ کیا جاوے۔اور مخلوق کا حق یہ ہے کہ کسی سے ذاتی بغض نہ ہو۔بیشک خدا کا حق بڑا ہے مگر اس بات کو پہنچانے کا آئینہ کہ خدا کا حق ادا کیا جارہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق بھی ادا کر رہا ہے یا نہیں جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھ سکتا۔وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔دیکھو آنحضرت ا کی جماعت نے بیشمار فتوحات پالیں مگر کس لئے کہ منزلہ جان واحد