تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 543
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۰۸ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ ۱۹۰۷ء کا سالانہ جلسہ ۱۹۰۷ء کا سالانہ جلسہ تاریخ احمدیت میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ آخری جلسہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک زندگی میں ہوا۔مہمانوں کی آمد جلسہ سالانہ ۱۹۰۷ ء کے لئے احباب کی آمد 19 / دسمبر سے شروع ہو گئی تھی۔چند ایک دوست اس سے بھی پہلے دار الامان میں پہنچ چکے تھے مگر سب سے پہلے آنے والی جماعت دوالمیال کی تھی جو اپنے امیر مولوی کرم دار صاحب کے ہمراہ قادیان پہنچی تھی۔اس کے بعد ہر روز ملک کے چاروں طرف سے بکثرت احباب کی آمد شروع ہو گئی۔۲۴ / دسمبر کی شام اور اس کے بعد سیالکوٹ ، جموں، وزیر آباد گوجر انوالہ، جہلم ، گجرات، لاہور، امرتسر کپور تھلہ لودھیانہ جالندھر، دہلی اور دیگر مختلف اطراف کی جماعتیں وارد ہوئیں۔۲۶ - ۲۷ دسمبر کو بھی مہمانوں کی بکثرت آمد ہوئی۔۲۵ دسمبر کادن - شعید الازبان کا جلسہ ۲۵/ دسمبر کو نماز ظہر کے بعد شعید الاذہان کا ایک عام اجلاس ہوا۔سب سے اول حافظ عبدالرحیم صاحب نے سالانہ رپورٹ پڑھی۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے زمانہ کی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے نوجوان کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے (جو اس وقت مدرسہ تعلیم الاسلام کے طالب علم تھے۔) اپنا مضمون پڑھا اور اکبر شاہ خان صاحب اور نعمت اللہ صاحب گوہر نے نظمیں سنائیں۔آخری تقریر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے واعظ کے مزکی ہونے کے بارے میں فرمائی۔