تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 545
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۱۰ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ ہو گئے۔خانہ خدا اس کو نہ کہیں گے جو بت خانہ ہو۔انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائیگا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ و عقائد فاسدہ سے بالکل پاک و صاف ہو۔جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی۔دیکھو یہ وقت ہے جو کچھ کرنا ہے کر لو ایسا نہ ہو کہ بوجہ مخالفت دنیا سے بھی رہو اور دین سے بھی خالی چلے جاؤ۔کسی کو کیا معلوم کہ کون آئے گا۔مو تا موتی لگ رہی ہے تو بہ و خشوع و خضوع سے کام لو۔تقریر کے بعد احباب حضور سے مصافحہ کرتے رہے۔۲۸ / دسمبر کادن حضور کی سیر ۱۲۸ دسمبر کو صبح حسب معمول میر کے لئے حضور تشریف لے گئے۔احباب بہت کثرت سے ساتھ تھے مگر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب چوہدری مولا بخش صاحب ملک محمد حیات صاحب ، حکیم محمد عمر صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ایسا انتظام کیا کہ تمام دوستوں نے نہایت اطمینان کے سات حضور کی زیارت کا شرف حاصل کر لیا۔حضرت اقدس میدان میں ایک جگہ بیٹھ گئے۔اس وقت پہلے ایک امرتسری دوست نے بعد ازاں ابو یوسف مولوی مبارک علی صاحب نے نظمیں سنائیں۔اس دن ظہر و عصر کی نمازیں مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئیں۔حضرت اقدس کی دوسری تقریر بعد ازاں حضرت اقدس نے دوسری تقریر فرمائی جس کی ابتداء میں حضور نے فرمایا " جو کچھ کل میں نے تقریر کی تھی اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا کیونکہ بسبب علالت طبع تقریر ختم نہ ہو سکی اس واسطے آج پھر میں تقریر کرتا ہوں۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں جس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سال آئندہ تک زندہ رہے گا اور کون مر جائے گا۔؟" ان درد انگیز الفاظ کے بعد جو دلوں کو ہلا دینے والے تھے حضور نے اپنے خدام کو نہایت لطیف پیرائے میں شرح وبسط کے ساتھ صبر کی تلقین فرمائی۔علاوہ ازیں ان کو اور بھی قیمتی نصائح سے نوازا۔اور یہ سوزو گداز میں ڈوبی ہوئی تقریر ان الفاظ پر ختم ہوئی۔کیا پہلے سے نہیں کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قرناء آسمان سے پھو کی جائے گی۔کیا دمی خدا کی آواز نہیں۔انبیاء جو آتے ہیں وہ قرناء کا حکم رکھتے ہیں۔نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گاوہ سنادے گا کہ اب تمہارا وقت آگیا ہے۔کون کسی کو درست کر سکتا ہے۔جب تک که خدا درست نہ کرے۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ایک قوت جاز بہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔خدا کے کام کبھی ضبط نہیں جاتے۔ایک قدرتی کشش کام کر