تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 41
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی میرے نام تھی وہ مقدمہ ڈاکٹر کلارک شامل ہے دیکھی جائے۔جو پیشگوئی مجھ کو سنائی گئی وہ پنڈت لیکھرام کی نسبت تھی اور میں نے پنڈت لیکھرام کی رضامندی سے اور اس کی تحریری درخواست پر کی تھی۔اس خاص پیشگوئی کی خاطر وہ پشاور سے آکر قادیان میں دو ماہ رہا اور بہت بد زبانی کرتا رہا اور تمام پیغمبروں کو گالیاں دیتا رہا۔اور پنڈت لیکھرام پانچ برس کے بعد سنا ہے کہ مارا گیا۔جب میرے گھر کی تلاشی ہوئی۔اور پنڈت لیکھرام کے مرنے کے بعد میں نے ایک اشتہار جاری کیا جو مجھ کو اب پڑھ کر سنایا گیا۔جب مقدمہ ڈاکٹر کلارک صاحب کا ہوا اس میں کپتان ڈگلس صاحب نے مجھے یہ ہدایت دی تھی اور میں نے ایک نوٹس پر دستخط کئے تھے۔پنڈت لیکھرام نے ایک اشتہار اپنی طرف سے میری نسبت دیا تھا کہ تم تین برس میں ہیضہ کی بیماری سے مرجاؤ گے۔اور اس پیشگوئی کو اس نے پہلے آپ شائع کیا۔ڈپٹی انسپکٹر پولیس بٹالہ نمبر ۵۶۴ گواہ استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا۔”دونوں فریقوں کا جوش بڑا اشتعال انگیز ہے اور دشمنی سالہا سال سے چلی آتی ہے۔جب پنڈت لیکھر ام مارا گیا اس وقت بٹالہ میں مذہبی جوش بہت تھا۔مولوی محمد حسین جو اندیشہ بتاتا تھا میرے خیال میں وہ واقعی اندیشہ ہے مجھ کو اس واسطے خیال ہے کہ عام افواہ ہے کہ جو پیشین گوئیاں کی گئیں ان کے پورا کرنے کے لئے کوششیں کی گئی ہیں۔میرے نزدیک واقعی اندیشہ ہے ( جرح مسٹر اور ٹل پر کہا) محمد حسین کی نسبت میرے پاس کوئی رپورٹ نہیں ہوئی کہ اس سے اندیشہ ہے۔وہ کبھی کسی مقدمہ یا لڑائی میں شامل نہیں ہوا۔۔۔۔مولوی محمد حسین نے بدر اشتہار تیرہ ماہ کے مجھ کو چھری دکھلائی تھی۔مجھ کو مقامی حالات کی وجہ سے یہ خیال ہے کہ جب کبھی مرزا صاحب پیشین گوئی کرتے ہیں تو اس کی صداقت کے لئے کوشش کرتے ہیں۔" سید شبیر حسین صاحب انسپکٹر پولیس نے یہ گواہی دی کہ میں ضلع ہذا میں انسپکٹر پولیس ہوں۔میں لاہور شہر میں انسپکٹر پولیس تھا۔قبل اس کے ضلع ہذا میں آیا پنڈت لیکھرام کے قتل کے وقت وہاں تھا۔یہ عام قوی شبہ تھا کہ مرزا غلام احمد کا تعلق اس قتل میں تھا۔جو فقرات اس وقت پڑھ کر ہر دو فریق کے سنائے گئے ہیں ان کے شائع ہونے کی وجہ سے کوئی شبہ نہیں کہ نقض امن کا اندیشہ ہے۔نہ مرزا نہ مولوی محمد حسین خود کوئی ایسا فعل کریں گے مگر وہ اپنے مریدوں کو اشتعال دیں گے (مسٹر اور ٹل کی جرح پر ) محمد حسین کی نسبت کبھی شبہ نہیں ہوا کہ اس نے یا اس کی پیروی کنندوں نے اشتعال قتل دیا 1-← ان بیانات کے بعد مقدمہ ۲۷ جنوری کو ملتوی ہوا اور آئندہ دھار یوال مقام سماعت قرار پایا -