تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 40
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ پہلا سفر گورداسپور مولوی محمد حسین صاحب ٹالوی کی شورش اور ناکامی چونکہ ۵/ جنوری ۱۸۹۹ء کو تاریخ مقدمہ تھی اس لئے حضرت اقدس ۱۴ جنوری کی صبح کو پالکی میں بیٹھ کر براہ راست گورداسپور تشریف لے گئے آگئے اور باقی نو خدام جنہیں ساتھ جانے کا حضور ہی نے ارشاد فرمایا تھا بٹالہ ہوتے ہوئے گورداسپور پہنچ گئے جہاں لدھیانہ۔کپور تھلہ۔امرتسر۔لاہور۔شملہ۔جموں۔بد ولی وغیرہ مقامات سے مخلصین آ تھے۔چنا نچ دوسرے دن نماز فجر میں سو کے قریب احباب موجود تھے۔حضرت اقدس دس بجے اپنے خدام سمیت کچری تشریف لے گئے۔لوگوں کا انبوہ حضور کے مرجع خلائق ہونے کا ثبوت دیتا تھا۔بارہ بجے تک حضور عدالت کے انتظار میں وہیں تشریف فرمار ہے۔لیکن چونکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے وکیل اور ٹل (ORTOL) نے بذریعہ تار مقدمہ کے التواء کی درخواست کی تھی اس لئے مجسٹریٹ نے مقدمہ کی سماعت کے لئے 11 جنوری کا دن مقرر کر دیا۔۱۲۴ ۱۲۵ حضرت اقدس نے اس کے بعد عدالت کے احاطہ میں ہی کھانا تناول فرمایا۔پھر مخلصین کی کثیر تعداد کے ہمراہ قیام گاہ پر تشریف لائے اور نماز ظہر و عصر ادا کی۔ازاں بعد حضور چند احباب کے ساتھ بذریعہ یکہ گورداسپور سے سیدھے قادیان تشریف لے آئے اور باقی خدام حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب کی معیت میں ریل کے ذریعہ سے بٹالہ آئے اور بٹالہ سے قادیان پہنچے۔11 جنوری کی تاریخ مقدمہ کے لئے حضور کو دوبارہ سفر گورداسپور دوسرا سفر گورداسپور اختیار کرنا پڑا۔اس دن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، محمد بخش صاحب انسپکٹر پولیس بٹالہ اور سید بشیر حسین صاحب انسپکٹر پولیس گورداسپور کے بیانات ہوئے۔حضرت اقدس کی طرف سے مسٹرڈ بلیو۔براؤن (W-BROWN) مولوی فضل دین صاحب لاہور ، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ علی احمد صاحب مقامی پلیڈ ر بطور پیری کار پیش ہوئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی طرف سے دوو کیل حاضر تھے۔1 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بیان دیا کہ میں ۱۸۹۷ء کے لیکھرام کے قتل سے خوفزدہ ہوں اور اپنی حفاظت کے لئے چھری رکھتا ہوں۔۲۰/ نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار سے مرزا صاحب نے مجھے اور زیادہ خائف کر دیا ہے۔حضرت اقدس صحیح پاک علیہ السلام نے اپنے بیان میں فرمایا "میری پیشگوئی عبد اللہ آتھم کا سبب یہ تھا کہ عبد اللہ آتھم نے مجھ سے یہ تحریری درخواست کی تھی۔ان کی رضامندی اور تحریری درخواست پر میں نے یہ پیشگوئی کی تھی کیونکہ انہوں نے اصرار کیا تھا۔عبد اللہ آتھم کی درخواست جو