تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 531
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ ۴۹۶ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت صبر کاشان دار نمونه صاحبزادہ صاحب حضرت اقدس کے سب سے چھوٹے بچے تھے اس لئے حضور کو بھی طبعا ان سے بہت محبت تھی۔مگر حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات پر حضور نے صبر و تحمل کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔حضرت صاحبزادہ صاحب بیمار ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن رات ان کی تیمارداری میں مصروف رہتے تھے اور بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ ان کے علاج میں مشغول رہتے تھے۔اور چونکہ حضرت صاحب کو ان سے بڑی محبت تھی اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ وہ فوت ہو گئے تو حضرت صاحب کو بڑا صدمہ گزرے گا جس وقت صاحبزادہ مبارک احمد فوت ہونے لگے تو وہ سوئے ہوئے تھے۔حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے ان کی نبض دیکھی تو غیر معمولی کمزوری محسوس کی جس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ نبض میں بہت کمزوری ہے کچھ کستوری دیں۔حضرت صاحب جلدی سے صندوق میں سے کستوری نکالنے لگے۔مگر پھر مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور نبض نہایت ہی کمزور ہے۔اس وقت در اصل مبارک احمد فوت ہو چکے تھے مگر حضرت مولوی صاحب حضرت مسیح موعود کی تکلیف کا خیال کر کے یہ کلمہ زبان پر نہ لا سکتے تھے مگر حضرت صاحب سمجھ گئے اور خود آکر نبض پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب فوت ہو چکے ہیں۔اس پر حضور نے انا للہ و انا اليه راجعون کہا اور بڑے اطمینان کے ساتھ بستہ کھولا اور بڑے جذبہ کے ساتھ بیرونی احباب کو خط لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے اور ہم کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونا چاہئے۔اور مجھے بعض الہاموں سے بتایا گیا تھا کہ یہ لڑکا یا تو بہت خدا رسیدہ ہو گا یا بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا۔سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہونا چاہئے کہ خدا کا کلام پورا ہوا۔باغ میں تقریر حضرت صاجزادہ صاحب کا جنازہ مدرسہ میں پڑھا گیا اور نعش مبارک بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے لے گئے۔قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی اس لئے حضور قبر سے کچھ فاصلہ پر باغ میں بیٹھ گئے اور ایک ایمان افروز تقریر فرمائی جس کے لفظ لفظ سے صبرو رضا کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔حضور نے فرمایا میں تو اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی۔گھر کے آدمی اس کی بیماری میں بعض اوقات بہت گھبرا جاتے تھے۔میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ آخر نتیجہ موت ہی ہونا ہے یا کچھ اور ہے۔مجھے بڑی خوشی اس بات کی بھی ہے کہ میری بیوی کے منہ سے سب سے پہلا کلمہ جو نکلا ہے وہ ہی تھا کہ انا للہ وانا اليه راجعون اور کوئی جزع فزع نہیں کی۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ