تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 532 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 532

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۹۷ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی کوشش اور محنت سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اسی واسطے ادعونی استجب لکم میں اللہ تعالٰی نے کوئی بشارت نہیں دی مگر ولنبلونکم بشيئي۔۔۔الا یہ میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی کی طرف بڑی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا کو راضی کر سکتا ہے نہیں تو اگر خدا کے ساتھ شریک بن جاوے اور اپنی مرضی کے مطابق اسے چلانا چاہے تو یہ ایک خطرناک راستہ ہو گا جس کا انجام ہلاکت ہے۔ہماری جماعت کو منتظر رہنا چاہئے کہ اگر کوئی ترقی کا ایسا موقع آجاوے تو اس کو خوشی سے قبول کیا جاوے۔" A اخلاق و شمائل حضرت صاحبزادہ مبارک احمد صاحب نہایت درجہ تشکیل اور پاک صورت و سیرت تھے اور اپنی صغرسنی کے باوجود روحانی اور دینی باتوں میں اتنا شغف اور لگاؤ تھا کہ لوگ اکثر انہیں ولی قرار دیتے تھے۔وفات سے ایک رات قبل حضرت صاحب زادہ صاحب نے حضرت اقدس کو بلایا اور حضور سے مصافحہ کیا جیسے کوئی رخصت ہوتا اور آخری ملاقات کرتا ہے۔ان کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ ۱/۴ اپریل ۱۹۰۵ ء والے خوف ناک زلزلہ سے قبل ان کی زبان پر اکثر دفعہ " زمین مل گئی" کے الفاظ جاری رہتے تھے۔بیماری کے دوران کسی نے خواب دیکھا کہ آپ کی شادی ہو رہی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجرین نے لکھا ہے کہ اس کی تعبیر تو موت ہے مگر اسے ظاہری رنگ میں پورا کر دینے کی صورت میں موت مل جاتی ہے چنانچہ حضور کے ارشاد پر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے (۳۰/ اگست ۱۹۰۷ء کو نماز عصر کے بعد) صاجزادہ صاحب کا نکاح مریم بنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب سے پڑھا مگر خدا کا کلام پورا ہوا اور آپ داغ مفارقت دے گئے۔آپ کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رقت آمیز نظم کی جو آپ کے لوح مزار پر درج ہے جو یہ ہے:۔جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھے کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اس پہ اے دل تو جاں فدا کر