تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 530
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۴۹۵ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت سفر بٹالہ حضرت ام المومنین اور حرم حضرت مولوی نور الدین صاحب اپنے صاحبزادگان سمیت حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ تبدیلی آب وہوا کی غرض سے ۴/ جولائی ۱۹۰۷ء سے لاہور گئے ہوئے تھے اور انہیں ۱۴ / جولائی ۱۹۰۷ ء کو ایک بجے کی گاڑی سے بٹالہ واپس پہنچنا تھا لہذا حضرت اقدس ان کے استقبال کے لئے چند خدام کے ہمراہ ۱۴ جولائی کی صبح کو بٹالہ تشریف لے گئے۔حضور صبح پانچ بجے کے قریب پالکی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے اور دس بجے کے قریب بٹالہ پہنچے اور اسٹیشن کے قریب قیام فرمایا۔تحصیل دار بٹالہ رائے جسمل صاحب حضور کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے اور بتایا کہ میں شہر سے باہر رہتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ باہر رہنا بہتر ہے کیوں کہ شہر میں اکثر طاعون کا خوف ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگ اصلاح عمل کی طرف توجہ نہیں کرتے اور جب تک کہ اصلاح عمل نہ ہو گا یہ عذاب دور نہ ہوگا۔ایک دفعہ ایک انگریز اور ایک دیسی افسر ٹیکہ لگانے کے واسطے قادیان میں آئے۔تب ہم نے اپنی کتاب "کشتی نوح " کا ایک نسخہ اس کو بھیجا تھا جس کا انگریزی میں ترجمہ سن کر انگریز نے کہا کہ سچ تو یہی ہے جو اس کتاب میں لکھا ہے باقی تو سب حیلے ہی ہیں۔اصلی علاج یہی ہے۔پس یہ آسمانی اور روحانی باتیں ہیں اور زمینی لوگ ان کو نہیں سمجھ سکتے۔غرض حضور نے بڑے لطیف پیرایہ میں ان تک پیغام پہنچایا۔واپسی حضور بٹالہ میں چند گھنٹہ قیام فرمار ہے اور شام کو اپنے اہل بیت سمیت دار الامان پہنچ گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات جیسا کہ ۱۸۹۹ء کے حالات میں گزر چکا ہے حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی ولادت سے قبل ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ان سے متعلق الهاما خبر دی گئی تھی کہ اتن اسْقُطُ مِنَ اللهِ وَأصيب - یعنی میں رو بخدا ہوں گا یا جلد فوت ہو جاؤں گا۔علاوہ ازیں ان کی ولادت کے بعد حضور کوے۔۱۹۰۶ ء میں بھی مختلف الہامات و کشوف کے ذریعہ سے بار بار ان کی وفات کی اطلاع ملی۔چنانچہ ان آسمانی خبروں کے عین مطاب حضرت صاحبزادہ صاحب ۱۶/ ستمبر۷ ۱۹۰ء کو بوقت صبح انتقال فرما گئے۔