تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 529
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۹۴ مکمکلی شورش میں جماعت کو نصیحت ملکی شورش میں حضرت مسیح موعود کی جماعت کو نصیحت " تقسیم بنگال" کے نتیجہ میں جو شورش اٹھ کھڑی ہوئی تھی اس نے ۱۹۰۷ء کے آغاز میں زیادہ خطرناک صورت اختیار کرلی۔لہذا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ۷ / مئی ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار میں اپنی جماعت کو پر زور نصیحت و ہدایت فرمائی کہ وہ ملکی شورش سے بالکل الگ رہے۔اس سلسلہ میں ۱۲ / مئی ۱۹۰۷ء کو ۵ بجے شام ایک جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے جلسہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی صدر جلسہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے قیام امن پر تقاریر فرمائیں۔حضرت حکیم الامت نے باالخصوص اس طرف توجہ دلائی کہ حکومت سے سب سے زیادہ فائدہ ہندوؤں نے اٹھایا ہے کروڑوں کی جائداد ہر سال مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ہندوؤں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔سرکاری ملازمتوں میں دیکھو تو تمام بڑے بڑے عہدے علی العموم ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں اور کیا مجال ہے کہ کسی مسلمان کو معمولی دفتر کی کلر کی بھی لینے دیں ہاں چپڑاسی وغیرہ مسلمان رکھ لئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہندوؤں ہی نے سب سے زیادہ ناشکری کی اور ان سے اس سے زیادہ کچھ امید بھی نہیں ہو سکتی کیوں کہ جو مشرک اپنے حقیقی محسن خالق مالک کو چھوڑ کر ایک پتھر کے آگے سرجھکاتا ہے اس سے کیا امید ہو سکتی ہے کہ وہ انسان کے احسان کو شکریہ کے ساتھ دیکھے گا؟ الواح الهدی" کی تجویز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو روز و شب یہ فکر رہتا تھا کہ کسی طرح دنیا میں تقوی و نیکی قائم ہو۔شاید ہی حضور کی کوئی تصنیف ایسی ہو جس میں تزکیہ نفس کے ذرائع نہ بیان کئے گئے ہوں اور اخلاق حسنہ کے حصول کے وسائل کا تذکرہ نہ ہو مگر اس سال حضور کے دل میں یہ تجویز آئی کہ احمد بی تقوی اور تزکیہ نفس کے ضروری اصول لکڑی کے تختیوں پر لکھ کر دیواروں یا دروازوں پر لٹکا دیں تا ان پر ہر وقت نظر پڑتی رہے اس تجویز کا چر چاچند روز تک رہا مگر دیگر ضروری کاموں کے سبب پھر اس طرف توجہ نہ رہی۔