تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 528 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 528

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۹۳ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵ کالم (شخص) ۲۷- بدر ۲۵/ اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۲ ۲۸- بدر ۲۵/ اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۲ ۲۹- بدر ۱/۱۸ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ کالم " الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ کالم ۱ ۳۰ یه اشتهار قطعی طور پر مسوده مسالہ تھا جس کے متعدد ثبوت ہیں۔مثالی (۱) حضرت اقدس نے اس اشتہار کو آخری فیصلہ" سے موسوم فرمایا جو خود مولوی ثناء اللہ صاحب کی اصطلاح میں مباہلہ ہی کا دوسرا نام ہے۔(ملاحظہ ہو تفسیر ثنائی جلد ۲ صفحہ ۴۰ زیر آیت مباہلہ ) (۲) اشتہار کے عنوان میں ” مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ کالفظ بھی اس کے مسودہ مباہلہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے اور یک طرفہ دعا کی نفی۔(۳) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بھی اس کے مسودہ مباہلہ ہونے کا اقرار ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔(۱) کرشن قادیانی نے ۱۵/ اپریل ۱۹۰۷ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار کیا تھا۔"" وجال قادیانی پر میرے مباہلہ کا اثر " " ان واقعات کو ملحوظ رکھ کر کوئی دانا کہہ سکتا ہے کہ مرزا جی کی دعائے مباہلہ کا اثر کچھ ظاہر ہوا۔ابو الوفا کے ساتھ مسالمہ کا اعلان کیا تو اس کا برا اثر بھی آپ ہی پر پڑتا رہا۔(ملاحظہ ہو مرقع قادیانی بابت ماہ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۸- ۲۴)۔(ب) " مرزا جی نے میرے ساتھ مباہلہ کا ایک طولانی اشتہار دیا تھا۔" ( مرقع تاریانی بابت ماہ دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) (ج) "وہ اپنے اشتہار مباہلہ ۱۵ / اپریل سے ۱۹۰ ء میں شیخ اٹھا تھا کہ اہل حدیث نے میری عمارت کو ہلا دیا ہے (اہل حدیث ۱۹ / جون ۱۹۰۸ء) (د) آج تک مرزا صاحب نے کسی مخالف سے ایسا کھلا مباہلہ نہ کیا تھا بلکہ ہمیشہ گول گول رکھا کرتے تھے۔" اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب بعنوان " مرزا صاحب قادیانی کا انتقال اور اس کا نتیجہ ) (۴) مولوی ثناء اللہ صاحب کے سوانح نگار کو بھی یہ مسلم ہے کہ یہ دعا مسودہ مباہلہ تھی۔چنانچہ مولوی عبد المجید صاحب سوہدروی سیرت ثنائی صفحہ ۷۲ او پر لکھتے ہیں ” میرزا صاحب قادیانی نے اس مباہلہ سے متعلق جو اشتہار شائع کئے۔۔۔وہ تاریخی اشتہار ذیل میں بھنہ نقل کرتے ہیں " اس کے بعد انہوں نے "مولوی شاء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ " کے اشتہار کا مکمل متن درج کیا ہے جو اس کے مسودہ مباہلہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔لیکن چونکہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی اعتراض دارد نہیں ہو سکتا تھا اس لئے انہوں نے سراسر خلاف واقعہ یہ بات بھی لکھ دی کہ حضرت مولانا مرحوم (یعنی مولوی شاء الله صاحب۔ناقل ) نے یہ مباہلہ قبول کیا جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ مرزائے قادیان ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء کو ہلاک ہو گئے۔" (سیرت ثنائی صفحہ ۱۷۲) ۱ اخبار بد ر نمبر جلد ۶ - ۱۸ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ ۳۲ اخبار وطن ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۱۱ ۳۳ اخبار اہل حدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۵ - اخبار اہل حدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۵ -۳۵ اخبار اہل حدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء صفحه ۵ صفحه ۲ حاشیه اخبار اہل حدیث ۳۱/ جولائی ۱۹۰۷ ء۔مزید تحقیق و تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مولانا قاضی محمد نذیر صاحب نا نظر اشاعت و تصنیف کا تحقیقی مقاله "آخری اتمام حجت "ناشر نظارت اشاعت لٹریچرو تصنیف ربوہ۔دسمبر ۶۱۹۷۳ ۳۷- الحکم ۱۰ / اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۹ کالم ۳۱ ۳۸ اہل حدیث کا مذہب شائع کردہ " جمیعتہ اہل حدیث لاہور " ۳۹ خود مولوی صاحب کی زندگی کے آخری ایام کسی درجہ بے بسی اور غم و اندوہ میں گزرے اس کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو "سیرت ثنائی صفحه ۳۸۸ تا ۱۳۹۷ متولفه مولوی عبد المجید صاحب سوہد روی) یہ حالت پڑھ کر دل کانپ اٹھتے اور صاحب بصیرت انسان عبرت حاصل کرتے ہیں۔