تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 39 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 39

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۳۹ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی دفعہ ۷ - اضابطہ فوجداری دائر کیا گیا تھا مگر کسی وجہ سے وہ رہا ہوا اور کپتان ڈگلس صاحب بہادر زپٹی کمشنر نے جن کی عدالت میں یہ مقدمہ سماعت ہوا تھا حکم دیا تھا کہ آئندہ کے لئے مرزا غلام احمد ایسی پیشگوئی نہ کرے مگر اب پھر اس نے اس حکم کے بر خلاف کرنا شروع کیا ہے جس سے اندیشہ نقض امن کا ہے۔ہماری دانست میں مرزا غلام احمد نے کپتان ڈگلس صاحب بہادر کے حکم اور وعدہ کے خلاف کیا ہے اور ضرور نقض امن کو روکنے کے لئے فریقین کا انتظام کرنا ضروری ہے۔فریقین کی حفظ امن میں ضمانت لینی چاہیے۔" 14 اس رپورٹ کے چار یوم بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ۵/ دسمبر ۱۸۹۸ء کو ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی۔" جناب عالی ! مرزا غلام احمد ساکن موضع قادیان نے برخلاف مظہر سائل بدیں مضمون اشتہار دیا ہے کہ مولوی ابو سعید محمد حسین کو ۱۳ ماہ کے اندر ذلت کی مار اور رسوائی ہوگی جس سے مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ اپنی پیشگوئی کو سچا کرنے کے لئے میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوئی ناجائز تدبیر کرے گا۔لہذا درخواست ہے کہ مظہر سائل کو ایک پستول اور ایک بندوق کا حفاظت جان کے لئے کل احاطہ پنجاب کے واسطے لائسینس دیا جاوے کیونکہ مظہر کل پنجاب میں واسطے وعظ وغیرہ ضرورتوں کے دورہ کیا کرتا ہے۔سوائے اوزار اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کی جماعت میں سے کوئی دشمن نقصان پہنچاوے۔عرضی فردی ابو سعید محمد حسین ایڈیٹر اشاعت السنه ساکن بٹالہ ضلع گورداسپور" ڈپٹی انسپکٹر کی رپورٹ اور اس درخواست پر ڈپٹی کمشنر نے ۵/ جنوری کو پیٹی رکھ دی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ہم خیالوں نے مقدمہ جیتنے کے لئے زور شور سے تیاری شروع کر دی۔وکیلوں کی فیس کے لئے شہروں میں چندوں کا اہتمام کیا گیا۔ہندو اور عیسائی جو پہلے فوجداری مقدمہ میں منہ کی کھا چکے تھے۔اب پھر ان کے ساتھ میدان میں آگئے۔غرضکہ اس مقدمہ نے بھی ایک انتہائی خطرناک صورت اختیار کرلی۔حضرت اقدس کو یہ سب اطلاعات مل چکی تھیں مگر حضور کو ذرہ بھر تشویش نہیں تھیں بلکہ آپ نے انہی دنوں سیٹھ اللہ رکھا عبدالرحمن صاحب مدراسی کو تسلی دیتے ہوئے لکھا کہ "یہ آخری ابتلا ہے جو محمد حسین کی وجہ سے پیش آگیا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے راضی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔مخالفوں نے اپنی کوششوں کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے اور خدا تعالیٰ کے کام فکر اور عقل سے باہر ہیں۔