تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 515 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 515

تاریخ احمدیت جلد ؟ ۴۸۰ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت قادیانی لکھی جس میں کئی مقامات پر کاذب کی موت کے لئے بددعا کی آخر جلد ہی طاعون سے مرگیا۔ابو الحسن عبد الکریم نام نے جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا چاہا تو وہ بھی طاعون کا شکار ہو گیا۔۱۰۔اسی طرح ایک شخص فقیر مرزا دوالمیال ضلع جہلم کا رہنے والا تھا۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بہت کچھ بد زبانی کر کے یہ تحریری پیش گوئی کی کہ ” میرزا غلام احمد صاحب کا سلسلہ ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۲۱ھ تک ٹوٹ پھوٹ جاوے گا اور بڑی سخت درجہ کی ذلت وارد ہو گی جسے تمام دنیا دیکھے گی"۔یہ پیش گوئی ۷ / رمضان کو لکھی گئی تھی سو اگلے سال جب دو سرار مضان آیا تو اس کے محلہ میں طاعون نمودار ہو گئی اور پہلے اس کی بیوی پھر خود فقیر مرزا سخت طاعون میں مبتلا ہو گیا اور آخر پورے ایک سال بعد عین ۷ / رمضان کو بتاریخ ۱۷/ نومبر ۱۹۰۴ء نا کامی و نامرادی کا منہ دیکھتے ہوئے اٹھ گیا۔غرض کہ جو بھی حضور کے مقابل آیا د ہی مارا گیا۔جس نے حضور کے خلاف طاعون پڑنے کی بد دعا کی وہ بد دعا خود اسی پر پڑی۔یہ تو ۱۹۰۷ء سے قبل کی بعض اموات ہیں۔اس کے بعد گو طاعون کی عام تباہ کاریاں نسبتاً کم ہو گئیں مگر اب اس کا زور سلسلہ احمدیہ کے اشد معاندین کی طرف پہلے سے بھی بڑھ گیا اور ان کا جلد جلد خاتمہ ہونے لگا چنانچہ ۱۹۰۷ء میں جو کمفر و مکذب طاعون سے ہلاک ہوئے ان میں سے بعض قابل ذکر یہ ہیں۔"شجھ چتک " اخبار کا پورا عملہ (جس کا ذکر آگے آرہا ہے) مولوی الهی بخش صاحب اکو شنسٹ عبد القادر صاحب پنڈوری ، ظفر احمد صاحب پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور۔سعد اللہ لدھیانوی کی ہلاکت ۱۹۰۷ء میں جو معاند طاعون کا شکار ہوئے ان میں سب سے زیادہ بدگو مولوی سعد اللہ لدھیانوی نو مسلم تھا جس کی وفات جنوری ۱۹۰۷ ء کے پہلے ہفتہ میں ہوئی۔اس شخص نے ابتداء ہی سے سلسلہ کی مخالفت انتہاء تک پہنچادی تھی اور سب و شتم سے بھری ہوئی تحریرات نظم و نثر میں شائع کیں۔اس پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے سعد اللہ لدھیانوی نے اپنی کتاب "شہاب ثاقب بر مسیح کا ذب" میں حضور کی ہلاکت و تباہی کی پیش گوئی کی کہ۔اخذ یمین و قطع و تین است بهر تو بے رونقی و سلسلہ ہائے مزوری اکنوں یا صطلاح شما نام ابتلا است آخر بروز حشر و پایین دار خاسری یعنی خدا کی طرف سے تیرے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ خدا تجھے پکڑے گا اور تیری رگ جاں کاٹ دے گا۔تب تیرے مرنے کے بعد یہ تیرا جھوٹا سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔اور اگر چہ تم لوگ کہتے ہو کہ ابتلاء بھی آیا کرتے ہیں مگر آخر تو حشر کے دن نیز اس دنیا میں نامراد رہے گا۔