تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 516 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 516

تاریخ احمدنت جلد ۲ طاعون کا مشا ندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ۲۹/ ستمبر ۱۸۹۴ء کو بذریعہ الہام خبر دی کہ "ان شانئک هو الابتر - " یعنی (سعد اللہ تیرا دشمن خود ابتر اور مقطوع النسل مرے گا۔سعد اللہ یہ پیش گوئی غلط ثابت کرنے کے لئے بارہ برس تک اپنی کثرت اولاد اور حضور کی موت اور تباہی کے لئے دعائیں کرتا رہا۔اس حسرت پر اس کے یہ اپنے اشعار کافی ہیں جو اس نے ” قاضی الحاجات " کی سرخی سے شائع کئے۔زازواج جگر گوشہ باداری اے بے نیاز دلے چند زاں یا گرفتی تو باز دل من بنعم البدل شاد کن بلطت از غم غصہ آزاد کن و اولادم اے ذوالمنن بود ہریکے قرة العین من جگر پار ہائے که رفتند پیش زمبور کی شان دلم ریش ریش یعنی اے خدائے بے نیاز تو نے تو مجھے اولاد تو بخش مگر ان میں سے بعض کو واپس بلا لیا۔اب ان کے عوض اور اچھی اولاد دے کر میرا دل خوش کر دے اور اپنے لطف وکرم سے مجھے رنج و غم سے آزاد کر۔اے محسن میری ازواج و اولاد میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے۔اور جو جگر کے ٹکڑے مجھ سے آزاد ہو چکے ہیں ان کے غم سے میرا دل پارہ پارہ ہو چکا ہے۔ان درد ناک اشاعت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اولاد نہ ہونے اور ہو کر مرجانے سے کس قدر حسرتیں سعد اللہ کے دل میں بھری ہوئی تھیں اور کس طرح اس کی زندگی بے قراری اور اضطراب میں سے گزر رہی تھی۔حقیقتہ الوحی میں حضور کی طرف سے سعد اللہ کو چیلنج حضرت اقدس نے "حقیقتہ الوحی" میں سعد اللہ کے ابتر رہنے کی پیش گوئی کو اپنا ایک سو ستاسٹھواں نشان قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا " سعد اللہ پر فرض ہے کہ اس پیش گوئی کی تکذیب کے لئے یا تو اپنے گھر اولاد پیدا کر کے دکھلاوے اور یا پہلے لڑکے کی شادی کر کے اولاد حاصل کر اکر اس کی مردمی ثابت کرے۔اور یاد رکھے کہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات اس کو ہر گز حاصل نہیں ہوگی کیوں کہ خدا کے کلام نے اس کا نام ابتر رکھا ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا کلام باطل ہو وہ ابتر ہی مرے گا۔"