تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 461
تاریخ احمد بیت۔۴۵۸ رسالہ شمعید الاذہان کا اجراء دلیل کے پیش کرتا ہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔" اس وقت صاحبزادہ کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہو گا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔صرف اس موقعہ پر نہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ دلی جوش ان کا ظاہر ہو جاتا ہے۔چنانچہ ابھی میر محمد اسحاق کے نکاح کی تقریب پر چند اشعار انہوں نے لکھے تو ان میں یہی دعا ہے کہ اے خدا توان دونوں اور ان کی اولاد کو خادم دین بنا۔برخوردار عبدالحی کی آمین کی تقریب پر اشعار لکھے تو ان میں یہی دعا بار بار کی ہے کہ اسے قرآن کا سچا خادم بنا ایک اٹھارہ برس کے نوجوان کے دل میں اس جوش اور امنگوں کا بھر جانا معمولی امر نہیں کیوں کہ یہ زمانہ سب سے بڑھ کر کھیل کو د کا زمانہ ہے۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا ؟ جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی۔اگر ایک انسان افتراء کرتا ہے تو اگر چہ وہ باہر کے لوگوں سے افتراء کو چھپا بھی لے مگر اپنے ہی بچوں سے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں چھپا نہیں سکتا۔وہ اس کی ہر ایک حرکت اور سکون کو دیکھتے ہیں۔ہر ایک گفتگو کو سنتے ہیں۔ہر موقع پر اس کے خیالات کو ظاہر ہو تا ہوا دیکھتے ہیں۔پس اگر افتراء ہو تو ضرور ہے کہ وہ افتراء کسی نہ کسی وقت اس کے اپنے بچوں یا بیوی پر ظاہر ہو جائے۔اے بد قسمت لوگو! غور کردیا کیا مفتری کی اولاد جو اس کے افتراء کے زمانہ میں پرورش پائے ایسی ہوا کرتی ہے؟ کیا تمہارے دل انسانی دل نہیں جو ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے اور ان بچے خیالات کا ان پر کچھ اثر نہیں ہو تا۔کیوں تمہاری سمجھیں الٹی ہو گئی ہیں۔غور کروا کہ جس کی تعلیم اور تربیت کا یہ پھل ہے وہ کاذب ہو سکتا ہے۔اگر وہ کاذب ہے تو پھر دنیا میں صادق کا کیا نشان ے؟" مولوی عبد اللہ العمادی نے لکھا۔مارچ ۱۹۰۷ء سے یہ رسالہ قادیان ضلع گورداسپور سے ماہوار اردو میں شائع ہوتا ہے۔جس غرض کے لئے یہ رسالہ جاری ہوا ہے وہ نہایت اہم ہے لیکن جس طرز پر اس کی ابتداء ہوئی ہے اس سے امید ہوتی ہے کہ اپنے مقصد میں ضرور اس کو کامیابی ہوگی۔مضامین زور دار ہیں اور